قومی زبان

ہم تو اس زمین پر تھوکتے بھی نہیں

ایک دفعہ حبیب کنتوری صاحب کے ہاں نشست تھی جس میں مرزا داغؔ بھی شریک تھے۔ کنتوری صاحب نے غزل پڑھی جس کی زمین تھی ’’سفر سے پہلے ہجر سے پہلے ‘‘ وغیرہ ۔انہوں نے ایک شعر جس میں ’سفر ‘ کا قافیہ باندھا تھا ، بہت زور دے کر اسے پڑھا اور فرمایا کہ’’ کوئی دوسرا اگر ایسا شعر نکالے تو خون ...

مزید پڑھیے

میں نماز پڑھ رہا تھا ، لاحول تو نہیں

ایک روز داغؔ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک صاحب ان سے ملنے آئے اور انہیں نماز میں مشغول دیکھ کر لوٹ گئے ۔اسی وقت داغؔ نے سلام پھیرا۔ملازم نے کہا ’’فلاں صاحب آئے تھے واپس چلے گئے ۔‘‘فرمانے لگے ۔’’دوڑ کر جا،ابھی راستے میں ہوں گے ۔‘‘ وہ بھاگا بھاگا گیا اور ان صاحب کو بلا لایا ۔داغؔ ...

مزید پڑھیے

بادل امڈے ہیں دھواں دھار گھٹا چھائی ہے

بادل امڈے ہیں دھواں دھار گھٹا چھائی ہے دھوئیں توبہ کے اڑانے کو بہار آئی ہے تا کہ انگور ہرے ہوں مرے زخم دل کے دھانی انگیا مرے دل دار نے رنگوائی ہے تیرہ بختی سے ہوئی مجھ کو یہ خفت حاصل دل وحشت میں سویدا کی جگہ پائی ہے یہ چلن ہیں تو تمہیں حشر سے دیں گے تشبیہ لوگ سفاک کہیں گے بڑی ...

مزید پڑھیے

ساقیا کس کو ہوس ہے کہ پیو اور پلاؤ

ساقیا کس کو ہوس ہے کہ پیو اور پلاؤ اب وہ دل ہی نہ رہا اور امنگیں نہ وہ چاؤ رہنے دے ذکر خم زلف مسلسل کو ندیم اس کے تو دھیان سے بھی ہوتا ہے دل کو الجھاؤ کوچۂ عشق میں جانا نہ کبھی بھول کے تم ہے وہاں آب دم تیغ کا ہر جا چھڑکاؤ کیا ضرورت کہ حسینوں کے دہن کی خاطر تم کمر باندھ کے ملک ...

مزید پڑھیے

میرے رونے پر ہنسی اچھی نہیں

میرے رونے پر ہنسی اچھی نہیں بس جی بس یہ دل لگی اچھی نہیں دل لگی کا بھی نہ رونا ہو کہیں ہر گھڑی کی یہ ہنسی اچھی نہیں نازکی کا عذر رہنے دیجیے بات اے جاں بس یہی اچھی نہیں آ کے بیٹھا اور جانے کی پڑی بس یہی تو خو تری اچھی نہیں کون سی کیفیؔ بری ہے مجھ میں بات ہاں یہ اک قسمت مری اچھی ...

مزید پڑھیے

ناروا کہئے ناسزا کہئے

ناروا کہئے ناسزا کہئے کہئے کہئے مجھے برا کہئے تجھ کو بد عہد و بے وفا کہئے ایسے جھوٹے کو اور کیا کہئے درد دل کا نہ کہئے یا کہئے جب وہ پوچھے مزاج کیا کہئے پھر نہ رکئے جو مدعا کہئے ایک کے بعد دوسرا کہئے آپ اب میرا منہ نہ کھلوائیں یہ نہ کہئے کہ مدعا کہئے وہ مجھے قتل کر کے کہتے ...

مزید پڑھیے

بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں

بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں کسی سے آج بگڑی ہے کہ وہ یوں بن کے بیٹھے ہیں دلوں پر سیکڑوں سکے ترے جوبن کے بیٹھے ہیں کلیجوں پر ہزاروں تیر اس چتون کے بیٹھے ہیں الٰہی کیوں نہیں اٹھتی قیامت ماجرا کیا ہے ہمارے سامنے پہلو میں وہ دشمن کے بیٹھے ہیں یہ گستاخی یہ چھیڑ ...

مزید پڑھیے

تم آئینہ ہی نہ ہر بار دیکھتے جاؤ

تم آئینہ ہی نہ ہر بار دیکھتے جاؤ مری طرف بھی تو سرکار دیکھتے جاؤ نہ جاؤ حال دل زار دیکھتے جاؤ کہ جی نہ چاہے تو ناچار دیکھتے جاؤ بہار عمر میں باغ جہاں کی سیر کرو کھلا ہوا ہے یہ گلزار دیکھتے جاؤ یہی تو چشم حقیقت نگر کا سرمہ ہے نزاع کافر و دیں دار دیکھتے جاؤ اٹھاؤ آنکھ نہ شرماؤ یہ ...

مزید پڑھیے

آرزو ہے وفا کرے کوئی

آرزو ہے وفا کرے کوئی جی نہ چاہے تو کیا کرے کوئی گر مرض ہو دوا کرے کوئی مرنے والے کا کیا کرے کوئی کوستے ہیں جلے ہوئے کیا کیا اپنے حق میں دعا کرے کوئی ان سے سب اپنی اپنی کہتے ہیں میرا مطلب ادا کرے کوئی چاہ سے آپ کو تو نفرت ہے مجھ کو چاہے خدا کرے کوئی اس گلے کو گلہ نہیں کہتے گر مزے ...

مزید پڑھیے

سبق ایسا پڑھا دیا تو نے

سبق ایسا پڑھا دیا تو نے دل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے ہم نکمے ہوئے زمانے کے کام ایسا سکھا دیا تو نے کچھ تعلق رہا نہ دنیا سے شغل ایسا بتا دیا تو نے کس خوشی کی خبر سنا کے مجھے غم کا پتلا بنا دیا تو نے کیا بتاؤں کہ کیا لیا میں نے کیا کہوں میں کی کیا دیا تو نے بے طلب جو ملا ملا مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4490 سے 6203