قومی زبان

نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی (ردیف .. ا)

نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا پہنچ کے در پہ ترے کتنے معتبر ٹھہرے اگرچہ رہ میں ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے بتوں نے کی ہیں جہاں میں ...

مزید پڑھیے

ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی

ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی یہ تیغ اپنے لہو میں نیام ہوتی رہی مقابل صف اعدا جسے کیا آغاز وہ جنگ اپنے ہی دل میں تمام ہوتی رہی کوئی مسیحا نہ ایفائے عہد کو پہنچا بہت تلاش پس قتل عام ہوتی رہی یہ برہمن کا کرم وہ عطائے شیخ حرم کبھی حیات کبھی مے حرام ہوتی رہی جو کچھ بھی بن نہ ...

مزید پڑھیے

چشم میگوں ذرا ادھر کر دے

چشم میگوں ذرا ادھر کر دے دست قدرت کو بے اثر کر دے تیز ہے آج درد دل ساقی تلخی مے کو تیز تر کر دے جوش وحشت ہے تشنہ کام ابھی چاک دامن کو تا جگر کر دے میری قسمت سے کھیلنے والے مجھ کو قسمت سے بے خبر کر دے لٹ رہی ہے مری متاع نیاز کاش وہ اس طرف نظر کر دے فیضؔ تکمیل آرزو معلوم ہو سکے تو ...

مزید پڑھیے

حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے

حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے سر پر ہیں خداوند سر عرش خدا ہے کب تک اسے سینچو گے تمنائے ثمر میں یہ صبر کا پودا تو نہ پھولا نہ پھلا ہے ملتا ہے خراج اس کو تری نان جویں سے ہر بادشہ وقت ترے در کا گدا ہے ہر ایک عقوبت سے ہے تلخی میں سوا تر وہ رنگ جو ناکردہ گناہوں کی سزا ہے احسان لیے ...

مزید پڑھیے

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے اور ...

مزید پڑھیے

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے تیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم نیم تاریک راہوں میں مارے گئے سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی تیری زلفوں کی مستی برستی رہی تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی جب گھلی تیری راہوں میں شام ...

مزید پڑھیے

آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال

آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال مدھ بھرا حرف کوئی زہر بھرا حرف کوئی دل نشیں حرف کوئی قہر بھرا حرف کوئی حرف الفت کوئی دل دار نظر ہو جیسے جس سے ملتی ہے نظر بوسۂ لب کی صورت اتنا روشن کہ سر موجۂ زر ہو جیسے صحبت یار میں آغاز طرب کی صورت حرف نفرت کوئی شمشیر غضب ہو جیسے تا ابد شہر ...

مزید پڑھیے

رنگ ہے دل کا مرے

تم نہ آئے تھے تو ہر اک چیز وہی تھی کہ جو ہے آسماں حد نظر راہ گزر راہ گزر شیشۂ مے شیشۂ مے اور اب شیشۂ مے راہ گزر رنگ فلک رنگ ہے دل کا مرے خون جگر ہونے تک چمپئی رنگ کبھی راحت دیدار کا رنگ سرمئی رنگ کہ ہے ساعت بیزار کا رنگ زرد پتوں کا خس و خار کا رنگ سرخ پھولوں کا دہکتے ہوئے گلزار کا ...

مزید پڑھیے

چند روز اور مری جان

چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم اور کچھ دیر ستم سہہ لیں تڑپ لیں رو لیں اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم جسم پر قید ہے جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبوس ہے گفتار پہ تعزیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں زندگی کیا کسی مفلس کی ...

مزید پڑھیے

مرثیے

۱ دور جا کر قریب ہو جتنے ہم سے کب تم قریب تھے اتنے اب نہ آؤ گے تم نہ جاؤ گے وصل ہجراں بہم ہوئے کتنے ۲ چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا رنگ بدلے کسی صورت شب تنہائی کا دولت لب سے پھر اے خسرو شیریں دہناں آج ارزاں ہو کوئی حرف شناسائی کا گرمئی رشک سے ہر انجمن گل بدناں تذکرہ چھیڑے تری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4334 سے 6203