قومی زبان

انتساب

آج کے نام اور آج کے غم کے نام آج کا غم کہ ہے زندگی کے بھرے گلستاں سے خفا زرد پتوں کا بن زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے درد کی انجمن جو مرا دیس ہے کلرکوں کی افسردہ جانوں کے نام کرم خوردہ دلوں اور زبانوں کے نام پوسٹ مینوں کے نام تانگے والوں کا نام ریل بانوں کے نام کارخانوں کے بھوکے ...

مزید پڑھیے

ہم تو مجبور وفا ہیں

تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیئے اے ارض وطن جو ترے عارض بے رنگ کو گلنار کریں کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہوگا کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گل زار کریں تیرے ایوانوں میں پرزے ہوئے پیماں کتنے کتنے وعدے جو نہ آسودۂ اقرار ہوئے کتنی آنکھوں کو نظر کھا گئی بد خواہوں کی خواب کتنے تری شہ راہوں میں ...

مزید پڑھیے

زنداں کی ایک شام

شام کے پیچ و خم ستاروں سے زینہ زینہ اتر رہی ہے رات یوں صبا پاس سے گزرتی ہے جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات صحن زنداں کے بے وطن اشجار سرنگوں محو ہیں بنانے میں دامن آسماں پہ نقش و نگار شانۂ بام پر دمکتا ہے مہرباں چاندنی کا دست جمیل خاک میں گھل گئی ہے آب نجوم نور میں گھل گیا ہے عرش کا ...

مزید پڑھیے

کتے

یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے کہ بخشا گیا جن کو ذوق گدائی زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی نہ آرام شب کو نہ راحت سویرے غلاظت میں گھر نالیوں میں بسیرے جو بگڑیں تو اک دوسرے کو لڑا دو ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے یہ فاقوں سے ...

مزید پڑھیے

دو عشق

(1) تازہ ہیں ابھی یاد میں اے ساقیٔ گلفام وہ عکس رخ یار سے لہکے ہوئے ایام وہ پھول سی کھلتی ہوئی دیدار کی ساعت وہ دل سا دھڑکتا ہوا امید کا ہنگام امید کہ لو جاگا غم دل کا نصیبہ لو شوق کی ترسی ہوئی شب ہو گئی آخر لو ڈوب گئے درد کے بے خواب ستارے اب چمکے گا بے صبر نگاہوں کا مقدر اس بام سے ...

مزید پڑھیے

بول

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے بول زباں اب تک تیری ہے تیرا ستواں جسم ہے تیرا بول کہ جاں اب تک تیری ہے دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن کھلنے لگے قفلوں کے دہانے پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے جسم و زباں کی موت سے پہلے بول کہ سچ زندہ ہے اب تک بول جو کچھ ...

مزید پڑھیے

نثار میں تیری گلیوں کے

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد بہت ہے ظلم کے دست بہانہ جو کے لیے جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں بنے ...

مزید پڑھیے

آج بازار میں پا بہ جولاں چلو

چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں آج بازار میں پا بہ جولاں چلو دست افشاں چلو مست و رقصاں چلو خاک بر سر چلو خوں بداماں چلو راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو حاکم شہر بھی مجمع عام بھی تیر الزام بھی سنگ دشنام بھی صبح ناشاد بھی روز ناکام بھی ان کا دم ساز اپنے سوا کون ...

مزید پڑھیے

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں کبھی صحبتیں کبھی فرقتیں کبھی دوریاں کبھی قربتیں یہ سخن جو ہم نے رقم کیے یہ ہیں سب ورق تری یاد کے کوئی لمحہ صبح وصال کا کوئی شام ہجر کی مدتیں جو تمہاری مان لیں ناصحا تو رہے گا دامن دل میں کیا نہ کسی عدو کی عداوتیں نہ کسی صنم کی ...

مزید پڑھیے

دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت (ردیف .. ے)

دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت درباں کا عصا ہے کہ مصنف کا قلم ہے آوارہ ہے پھر کوہ ندا پر جو بشارت تمہید مسرت ہے کہ طول شب غم ہے جس دھجی کو گلیوں میں لیے پھرتے ہیں طفلاں یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا علم ہے جس نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاں یہ خون شہیداں ہے کہ زر خانۂ جم ہے حلقہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4333 سے 6203