قومی زبان

شام بے مہر میں اک یاد کا جگنو چمکا

شام بے مہر میں اک یاد کا جگنو چمکا اور پھر ایک ہی چہرہ تھا کہ ہر سو چمکا اے چراغ نگۂ یار میں جاں سے گزرا اب مجھے کیا جو پئے دل زدگاں تو چمکا روز ملتے تھے تو بے رنگ تھا تیرا ملنا دور رہنے سے ترے قرب کا جادو چمکا دل میں پھر بجھنے لگا ضبط کا تارا کوئی پھر مری نوک مژہ پر کوئی آنسو ...

مزید پڑھیے

جنہیں محفلوں سے غرض نہ تھی وہ جو قید اپنے گھروں میں تھے

جنہیں محفلوں سے غرض نہ تھی وہ جو قید اپنے گھروں میں تھے وہی اعتبار زمانہ تھے وہی لوگ دیدہ وروں میں تھے ہوئے ہاتھ اب تو لہو لہو سر چشم اندھیرا ہے چار سو کبھی ہم بھی آئنہ ساز تھے کبھی ہم بھی شیشہ گروں میں تھے چلی شہر میں وہ ہوائے زر کہ غبار بن کے گئے بکھر وہ جو خواب آنکھوں میں تھے ...

مزید پڑھیے

آنکھیں جہاں ہوں بند اندھیرا وہیں سے ہے

آنکھیں جہاں ہوں بند اندھیرا وہیں سے ہے جاگے ہیں ہم جہاں سے سویرا وہیں سے ہے جس جا سے ہے شروع مرا کنج آرزو سایہ بھی نخل غم کا گھنیرا وہیں سے ہے اجڑا ہوا وہ باغ جہاں ہم جدا ہوئے آسیب غم کا دل پہ بسیرا وہیں سے ہے دور اک چراغ کشتہ پڑا ہے زمین پر شاید ستم کی رات کا ڈیرا وہیں سے ہے

مزید پڑھیے

دکھوں کے پھول تو ہیں زخم تو ہے داغ تو ہے

دکھوں کے پھول تو ہیں زخم تو ہے داغ تو ہے ہرا بھرا مرے سینے میں کوئی باغ تو ہے نہیں ہے وصل مگر خواب وصل بھی ہے بہت ذرا سی دیر غم ہجر سے فراغ تو ہے بہت اجاڑے سہی عمر کی سرائے مگر شکستہ طاق میں اک یاد کا چراغ تو ہے میں تشنگی کا گلا کیا کروں کہ صورت دل لہو کی مے سے چھلکتا ہوا ایاغ تو ...

مزید پڑھیے

نقد جاں کی مرے سوغات ابھی باقی ہے

نقد جاں کی مرے سوغات ابھی باقی ہے شب ہجراں کی مدارات ابھی باقی ہے دھوپ میں ترک مراسم کی جھلسنے والے آخری شام ملاقات ابھی باقی ہے خالق کون و مکاں ہم سے نہیں ہے ناراض گردش ارض و سماوات ابھی باقی ہے وقت کی دھوپ میں کھوئے مرے نشے کتنے اک تری چشم خرابات ابھی باقی ہے روز اول سے اجل ...

مزید پڑھیے

وہ دن جو بیت گیا پھر کسی نے پایا نہیں

وہ دن جو بیت گیا پھر کسی نے پایا نہیں کبھی کماں سے کوئی تیر جا کے آیا نہیں ٹھہر گیا ہے سر مرکز فلک سورج یہ وقت وہ ہے کہ دیوار میں بھی سایا نہیں یہ بے دلیٔ مسلسل یہ رنج نا معلوم تجھے بھلا کے بھی ہم نے تجھے بھلایا نہیں اسیر بزم اس آوارگی کو کم نہ سمجھ جو اپنے ساتھ گزارا وہ دن ...

مزید پڑھیے

اسیر بزم ہوں خلوت کی جستجو میں ہوں

اسیر بزم ہوں خلوت کی جستجو میں ہوں میں اپنے آپ سے ملنے کی آرزو میں ہوں مری سرشت میں رنگ بہار ہے لیکن بہت دنوں سے کسی باغ بے نمو میں ہوں تو مجھ کو بھول گیا ہے مگر مرے مطرب میں درد بن کے ترے نغمۂ‌‌ گلو میں ہوں خزاں رسیدہ کسی نخل نیم جاں کے تلے مجھے بھی دیکھ اسی شام زرد رو میں ...

مزید پڑھیے

دیکھتے جاتے ہیں نمناک ہوئے جاتے ہیں

دیکھتے جاتے ہیں نمناک ہوئے جاتے ہیں کیا گلستاں خس و خاشاک ہوئے جاتے ہیں ایک اک کر کے وہ غم خوار ستارے میرے غم سر وسعت افلاک ہوئے جاتے ہیں خوش نہیں آیا خزاں کو مرا عریاں ہونا زرد پتے مری پوشاک ہوئے جاتے ہیں دیکھ کر قریۂ ویراں میں زمستاں کا چاند شام کے سائے الم ناک ہوئے جاتے ...

مزید پڑھیے

میں ترے سنگ کیسے چلوں ہم سفر تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا

میں ترے سنگ کیسے چلوں ہم سفر تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا تو کہاں میں کہاں الاماں الحذر تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا تجھ سے ہے سب یہ حسن جہاں معتبر تجھ کو سجدے کرے کہکشاں سر بہ سر تو حریم قمر میں حزین سحر تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا گاہ شوریدہ سر گاہ خاموش تر تجھ میں پوشیدہ ...

مزید پڑھیے

تو مری ابتدا تو مری انتہا میں سمندر ہوں تو ساحلوں کی ہوا

تو مری ابتدا تو مری انتہا میں سمندر ہوں تو ساحلوں کی ہوا تیری منزل بنے میرا ہر راستا میں سمندر ہوں تو ساحلوں کی ہوا روز و شب موج در موج ہوں در بدر روز و شب ساحلوں پر پٹکتا ہوں سر ہاتھ آتا نہیں پھر بھی دامن ترا میں سمندر ہوں تو ساحلوں کی ہوا میری شوریدگی کے یہ طوفان سب میری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4313 سے 6203