شام بے مہر میں اک یاد کا جگنو چمکا
شام بے مہر میں اک یاد کا جگنو چمکا اور پھر ایک ہی چہرہ تھا کہ ہر سو چمکا اے چراغ نگۂ یار میں جاں سے گزرا اب مجھے کیا جو پئے دل زدگاں تو چمکا روز ملتے تھے تو بے رنگ تھا تیرا ملنا دور رہنے سے ترے قرب کا جادو چمکا دل میں پھر بجھنے لگا ضبط کا تارا کوئی پھر مری نوک مژہ پر کوئی آنسو ...