مچلتی ہے مرے سینے میں تیری آرزو کیا کیا
مچلتی ہے مرے سینے میں تیری آرزو کیا کیا لیے پھرتی ہے تیری چاہ مجھ کو کو بہ کو کیا کیا رہی ہے بعد مردن بھی تمہاری جستجو کیا کیا غبار خاک مرقد اڑ رہا ہے چار سو کیا کیا کبھی عاشق کو سمجھایا کبھی غیروں کو بہلایا فریب آمیز ہیں چالیں تری او حیلہ جو کیا کیا رہائی دی مجھے قید علائق سے ...