کوئی آنکھ چپکے چپکے مجھے یوں نہارتی ہے
کوئی آنکھ چپکے چپکے مجھے یوں نہارتی ہے مرے دل میں اک تمنا کہیں سر ابھارتی ہے مری سوچ کا طریقہ مری آنکھ کا سلیقہ یہی شے ہے تیرے اندر جو تجھے سنوارتی ہے نئے شوق کی چمک ہے کسی میہماں نظر میں مری روح میں اتر کر مرے سر ابھارتی ہے مجھے کچھ دنوں سے اس سے بڑا پیار مل رہا ہے کبھی اپنے دل ...