خوشی سے پھولیں نہ اہل صحرا ابھی کہاں سے بہار آئی
خوشی سے پھولیں نہ اہل صحرا ابھی کہاں سے بہار آئی ابھی تو پہنچا ہے آبلوں تک مرا مذاق برہنہ پائی ترے مفکر سمجھ نہ پائے مزاج تہذیب مصطفائی اصول جہد بقا کے بندے بلند ہے ذوق خود فنائی خلیل مست مے جنوں تھا مگر میں تم سے یہ پوچھتا ہوں رضائے حق کی چھری کے نیچے حیات آئی کی موت آئی جو ...