اسی فتور میں کرب و بلا سے لپٹے ہوئے
اسی فتور میں کرب و بلا سے لپٹے ہوئے تمام عمر گنوا دی انا سے لپٹے ہوئے ابھی بھی مل نہ سکی ان کی خامشی کو زباں یہ لوگ اب بھی ہیں صوت و صدا سے لپٹے ہوئے ہوا کے شہر میں بس سانس لینے آتے ہیں وگرنہ اہل زمیں ہیں خلا سے لپٹے ہوئے ہر ایک سمت لگا ہے خموشیوں کا ہجوم یہ کون لوگ ہیں کوہ ندا سے ...