قومی زبان

مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو

مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو غم بڑھے بھی تو سہی درد زیادہ بھی تو ہو ایسی مشکل تو نہیں دشت وفا کی تسخیر سر میں سودا بھی تو ہو دل میں ارادہ بھی تو ہو ذہن کا مشورۂ‌ ترک طلب بھی برحق ذہن کی بات قبول دل سادہ بھی تو ہو کہیں بادل کہیں سورج کہیں سایہ کہیں دھوپ مرے معبود ترا کوئی ...

مزید پڑھیے

متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہو

متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہو تضیع‌ عمر کا آخر کوئی جواز تو ہو بہم دگر کوئی شب اس سے لب بہ لب تو چلے ہوائے شوق کچھ آلودۂ مجاز تو ہو قدم قدم کوئی سایہ سا متصل تو رہے سراب کا یہ سر سلسلہ دراز تو ہو وہ کم سخن نہ کم آمیز پھر تکلف کیا کچھ اس سے بات تو ٹھہرے کچھ اس سے ساز تو ہو وفا سے ...

مزید پڑھیے

ہاں کاہش فضول کا حاصل بھی کچھ نہیں

ہاں کاہش فضول کا حاصل بھی کچھ نہیں لیکن حیات بے خلش دل بھی کچھ نہیں اب سوچ لو قدم ہیں زیاں گاہ شوق میں کہنا نہ پھر کہ جذبۂ کامل بھی کچھ نہیں گہرا سکوت چاپ کی آواز بازگشت رہ میں بھی کچھ نہ تھا سر منزل بھی کچھ نہیں جز حرص منفعت تہ دریا بھی کچھ نہ تھا جز وہم عافیت لب ساحل بھی کچھ ...

مزید پڑھیے

یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہے

یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہے کوئی دریوزہ گر اپنا کوئی تیرا سوالی ہے حوادث سے نبرد آرائیوں کا کس کو یارا تھا جنوں اپنا سلامت جس نے ہر افتاد ٹالی ہے ترے اغماض کی خو سیکھ لی اہل مروت نے کہ محفل درد کی اب صاحب محفل سے خالی ہے حضوری ہو کہ مہجوری محبت کم نہیں اس سے تب اپنا بخت ...

مزید پڑھیے

ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو

ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ہونا ہے جو آج برملا ہو اس دن بھی جو سر پہ دھوپ چمکی جس دن پہ بہت فریفتہ ہو اس رات بھی نیند اگر نہ آئی جس رات پہ اس قدر فدا ہو رنگوں میں وہی تو رنگ نکلا جو تیری نظر میں جچ گیا ہو پھولوں میں وہی تو پھول ٹھہرا جو تیرے سلام کو کھلا ہو اک شخص خدا بنا ہوا ہے کیا ...

مزید پڑھیے

دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہے

دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہے زنجیر بھی آوازۂ زنجیر بھی چاہے آرام کی صورت نظر آئے تو کچھ انساں نیرنگ شب و روز میں تغییر بھی چاہے سودائے طلب کو نہ توکل کے عوض دے یہ شرط تو خود خالق تقدیر بھی چاہے لازم ہے محبت ہی محبت کا بدل ہو تصویر جو دیکھے اسے تصویر بھی چاہے اک پل میں بدلتے ...

مزید پڑھیے

سمن بروں سے چمن دولت نمو مانگے

سمن بروں سے چمن دولت نمو مانگے ہوائے دامن گل گیسوؤں کی بو مانگے طراز شوخیٔ پا ہے گیاہ سبز کی مانگ خرام ناز کا انداز آب جو مانگے بکھرتی زلف سے ٹوٹے غرور شب کا طلسم سحر کا حسن فسون رخ نکو مانگے ورق ورق گل تر موج موج باد سحر بدن کا لمس ترے پیرہن کی بو مانگے شگاف کوہ نہ تھا تیشۂ ...

مزید پڑھیے

اک سایۂ شام یاد آیا

اک سایۂ شام یاد آیا خوشبو کا خرام یاد آیا دھویا ہوا سات پانیوں میں کیا نام تھا نام یاد آیا لہجے میں شگفتگی گلوں کی اک شستہ کلام یاد آیا اچھا ہوا گور تک تو پہنچے یاروں کو سلام یاد آیا اے موجۂ باد کیا ہوا ہے کیا تازہ پیام یاد آیا کچھ اور زمیں میں گڑ گئے ہم جب اپنا مقام یاد ...

مزید پڑھیے

اہل دل کے واسطے پیغام ہو کر رہ گئی

اہل دل کے واسطے پیغام ہو کر رہ گئی زندگی مجبوریوں کا نام ہو کر رہ گئی ہو گئے برباد تیری آرزو سے پیشتر زیست نذر گردش ایام ہو کر رہ گئی توبہ توبہ اس نگاہ مست کی سرشاریاں دیر پا توبہ بھی غرق جام ہو کر رہ گئی اس نگاہ ناز کو تو کوئی کچھ کہتا نہیں اور محبت کی نظر بدنام ہو کر رہ گئی ہر ...

مزید پڑھیے

ماحول سازگار کرو میں نشے میں ہوں

ماحول سازگار کرو میں نشے میں ہوں ذکر نگاہ یار کرو میں نشے میں ہوں اے گردشو تمہیں ذرا تاخیر ہو گئی اب میرا انتظار کرو میں نشے میں ہوں میں تم کو چاہتا ہوں تمہیں پر نگاہ ہے ایسے میں اعتبار کرو میں نشے میں ہوں ایسا نہ ہو کہ سخت کا ہو سخت تر جواب یارو سنبھل کے وار کرو میں نشے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4142 سے 6203