مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو
مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو غم بڑھے بھی تو سہی درد زیادہ بھی تو ہو ایسی مشکل تو نہیں دشت وفا کی تسخیر سر میں سودا بھی تو ہو دل میں ارادہ بھی تو ہو ذہن کا مشورۂ ترک طلب بھی برحق ذہن کی بات قبول دل سادہ بھی تو ہو کہیں بادل کہیں سورج کہیں سایہ کہیں دھوپ مرے معبود ترا کوئی ...