قومی زبان

دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا

دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا تجھ سے بھی ہم نے ترا پیار چھپائے رکھا چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلے ہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا غیر ممکن تھی زمانے کے غموں سے فرصت پھر بھی ہم نے ترا غم دل میں بسائے رکھا پھول کو پھول نہ کہتے سو اسے کیا کہتے کیا ہوا غیر نے کالر پہ ...

مزید پڑھیے

وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں

وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں حقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں جو بیٹھا ہے صف ماتم بچھائے مرگ ظلمت پر وہ نوحہ گر ہے خطرے میں وہ دانشور ہے خطرے میں اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہے نہ تیرا گھر ہے خطرے میں نہ میرا گھر ہے خطرے میں جہاں اقبالؔ بھی نذر خط ...

مزید پڑھیے

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا ہم نے جو بھول کے بھی شہہ کا قصیدہ نہ لکھا شاید آیا اسی خوبی کی بدولت ...

مزید پڑھیے

جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں

جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں مجھ سے آگے جانے والو میں آتا ہوں جن کی یادوں سے روشن ہیں میری آنکھیں دل کہتا ہے ان کو بھی میں یاد آتا ہوں سر سے سانسوں کا ناتا ہے توڑوں کیسے تم جلتے ہو کیوں جیتا ہوں کیوں گاتا ہوں تم اپنے دامن میں ستارے بیٹھ کر ٹانکو اور میں نئے برن لفظوں کو ...

مزید پڑھیے

ہم نے دل سے تجھے سدا مانا

ہم نے دل سے تجھے سدا مانا تو بڑا تھا تجھے بڑا مانا میرؔ و غالبؔ کے بعد انیسؔ کے بعد تجھ کو مانا بڑا بجا مانا تو کہ دیوانۂ صداقت تھا تو نے بندے کو کب خدا مانا تجھ کو پروا نہ تھی زمانے کی تو نے دل ہی کا ہر کہا مانا تجھ کو خود پہ تھا اعتماد اتنا خود ہی کو تو نہ رہنما مانا کی نہ شب ...

مزید پڑھیے

جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو

جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو کل کیا ہوگا کس کو خبر خاموش رہو کس نے سحر کے پاؤں میں زنجیریں ڈالیں ہو جائے گی رات بسر خاموش رہو شاید چپ رہنے میں عزت رہ جائے چپ ہی بھلی اے اہل نظر خاموش رہو قدم قدم پر پہرے ہیں ان راہوں میں دار و رسن کا ہے یہ نگر خاموش رہو یوں بھی کہاں بے تابئ دل ...

مزید پڑھیے

باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں

باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں سوچا ہے خموشی سے ہر اک زہر کو پی جائیں اپنا تو نہیں کوئی وہاں پوچھنے والا اس بزم میں جانا ہے جنہیں اب تو وہی جائیں اب تجھ سے ہمیں کوئی تعلق نہیں رکھنا اچھا ہو کہ دل سے تری یادیں بھی چلی جائیں اک عمر اٹھائے ہیں ستم غیر کے ہم نے اپنوں ...

مزید پڑھیے

کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں

کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں یہ مہوش ہم فقیروں کی دعا لیں نہ جانے پھر یہ رت آئے نہ آئے جواں پھولوں کی کچھ خوشبو چرا لیں بہت روئے زمانے کے لیے ہم ذرا اپنے لیے آنسو بہا لیں ہم ان کو بھولنے والے نہیں ہیں سمجھتے ہیں غم دوراں کی چالیں ہماری بھی سنبھل جائے گی حالت وہ پہلے اپنی زلفیں ...

مزید پڑھیے

عجیب کرب و بلا کی ہے رات آنکھوں میں

عجیب کرب و بلا کی ہے رات آنکھوں میں سسکتی پیاس لبوں پر فرات آنکھوں میں تمہیں تو گردش دوراں نے روند ڈالا ہے رہی نہ کوئی بھی پہلی سی بات آنکھوں میں قطار وار ستاروں کی جگمگاہٹ سے سجا کے لائے ہیں غم کی برات آنکھوں میں پھر اس کو دامن دل میں کہاں کہاں رکھیں سمیٹ سکتے ہیں جو کائنات ...

مزید پڑھیے

اس دربار میں لازم تھا اپنے سر کو خم کرتے

اس دربار میں لازم تھا اپنے سر کو خم کرتے ورنہ کم از کم اپنی آواز ہی مدھم کرتے اس کی انا تسکین نہیں پاتی خالی لفظوں سے شاید کچھ ہو جاتا اثر تم گریۂ پیہم کرتے سیکھ لیا ہے آخر ہم نے عشق میں خوش خوش رہنا درد کو اپنی دوا بناتے زخم کو مرہم کرتے کام ہمارے حصے کے سب کر گیا تھا دوانہ کون ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4020 سے 6203