دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا
دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا تجھ سے بھی ہم نے ترا پیار چھپائے رکھا چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلے ہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا غیر ممکن تھی زمانے کے غموں سے فرصت پھر بھی ہم نے ترا غم دل میں بسائے رکھا پھول کو پھول نہ کہتے سو اسے کیا کہتے کیا ہوا غیر نے کالر پہ ...