قومی زبان

بڑے بنے تھے جالبؔ صاحب پٹے سڑک کے بیچ

بڑے بنے تھے جالبؔ صاحب پٹے سڑک کے بیچ گولی کھائی لاٹھی کھائی گرے سڑک کے بیچ کبھی گریباں چاک ہوا اور کبھی ہوا دل خون ہمیں تو یوں ہی ملے سخن کے صلے سڑک کے بیچ جسم پہ جو زخموں کے نشاں ہیں اپنے تمغے ہیں ملی ہے ایسی داد وفا کی کسے سڑک کے بیچ

مزید پڑھیے

نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں

نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں کسے لگائے گلے اور کہاں کہاں ٹھہرے ہزار غنچہ و گل ہیں صبا کے رستے میں خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیں ملے ہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں کہیں سلاسل تسبیح اور کہیں زنار بچھے ہیں دام بہت مدعا کے رستے ...

مزید پڑھیے

کم پرانا بہت نیا تھا فراق

کم پرانا بہت نیا تھا فراق اک عجب رمز آشنا تھا فراق دور وہ کب ہوا نگاہوں سے دھڑکنوں میں بسا ہوا ہے فراق شام غم کے سلگتے صحرا میں اک امنڈتی ہوئی گھٹا تھا فراق امن تھا پیار تھا محبت تھا رنگ تھا نور تھا نوا تھا فراق فاصلے نفرتوں کے مٹ جائیں پیار ہی پیار سوچتا تھا فراق ہم سے رنج و ...

مزید پڑھیے

بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہو

بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہو ہوئے نہ ایک تو منزل نہ بن سکے گا لہو ہو کس گھمنڈ میں اے لخت لخت دیدہ ورو تمہیں بھی قاتل محنت کشاں کہے گا لہو اسی طرح سے اگر تم انا پرست رہے خود اپنا راہنما آپ ہی بنے گا لہو سنو تمہارے گریبان بھی نہیں محفوظ ڈرو تمہارا بھی اک دن حساب لے گا ...

مزید پڑھیے

یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئے

یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئے آباد کب ہوئے تھے کہ برباد ہم ہوئے ہوتا ہے شاد کام یہاں کون با ضمیر ناشاد ہم ہوئے تو بہت شاد ہم ہوئے پرویز کے جلال سے ٹکرائے ہم بھی ہیں یہ اور بات ہے کہ نہ فرہاد ہم ہوئے کچھ ایسے بھا گئے ہمیں دنیا کے درد و غم کوئے بتاں میں بھولی ہوئی یاد ہم ...

مزید پڑھیے

آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ

آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ بد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہ انتخاب اہل گلشن پر بہت روتا ہے دل دیکھ کر زاغ و زغن کو خوش نواؤں کی جگہ کچھ بھی ہوتا پر نہ ہوتے پارہ پارہ جسم و جاں راہزن ہوتے اگر ان رہنماؤں کی جگہ لٹ گئی اس دور میں اہل قلم کی آبرو بک رہے ہیں اب صحافی ...

مزید پڑھیے

اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں

اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں تخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیں یوں مہ و انجم کی وادی میں اڑے پھرتے ہیں وہ خاک کے ذروں پہ جیسے پاؤں دھرنا ہی نہیں ان کا دعویٰ ہے کہ سورج بھی انہی کا ہے غلام شب جو ہم پر آئی ہے اس کو گزرنا ہی نہیں کیا علاج اس کا اگر ہو مدعا ان کا ...

مزید پڑھیے

وہی حالات ہیں فقیروں کے

وہی حالات ہیں فقیروں کے دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے اپنا حلقہ ہے حلقۂ زنجیر اور حلقے ہیں سب امیروں کے ہر بلاول ہے دیس کا مقروض پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے وہی اہل وفا کی صورت حال وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے سازشیں ہیں وہی خلاف عوام مشورے ہیں وہی مشیروں کے بیڑیاں سامراج کی ہیں ...

مزید پڑھیے

جھوٹی خبریں گھڑنے والے جھوٹے شعر سنانے والے

جھوٹی خبریں گھڑنے والے جھوٹے شعر سنانے والے لوگو صبر کہ اپنے کئے کی جلد سزا ہیں پانے والے درد آنکھوں سے بہتا ہے اور چہرہ سب کچھ کہتا ہے یہ مت لکھو وہ مت لکھو آئے بڑے سمجھانے والے خود کاٹیں گے اپنی مشکل خود پائیں گے اپنی منزل راہزنوں سے بھی بد تر ہیں راہنما کہلانے والے ان سے ...

مزید پڑھیے

شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں

شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں کم نظر روشنی سے ڈرتے ہیں لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں دہر میں آہ بے کساں کے سوا اور ہم کب کسی سے ڈرتے ہیں ہم کو غیروں سے ڈر نہیں لگتا اپنے احباب ہی سے ڈرتے ہیں داور حشر بخش دے شاید ہاں مگر مولوی سے ڈرتے ہیں روٹھتا ہے تو روٹھ جائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4019 سے 6203