قومی زبان

خزاں نے پھول کو پتھر نے آئنے کو چنا

خزاں نے پھول کو پتھر نے آئنے کو چنا ہمیشہ ہم نے مگر ایک دوسرے کو چنا کسی بھی شکل میں تجسیم کرنا تھا اس کو چراغ پہلے بہت تھے سو طاقچے کو چنا مری نگاہ میں ہر چیز ایک جیسی تھی کہ جب تلک نہ کسی ایک نظریے کو چنا خدائے لفظ نے پہچان کے لیے اپنی تمہارے ساتھ ہمارے مکالمے کو چنا یہ پھول ...

مزید پڑھیے

آج سودائے محبت کی یہ ارزانی ہے

آج سودائے محبت کی یہ ارزانی ہے کام بیکار جوانوں کا غزل خوانی ہے غم کی تکمیل کا سامان ہوا ہے پیدا لائق فخر مری بے سر و سامانی ہے سنگ و آہن تو بنے آئینے ان کی خاطر دل نہ آئینہ بنا سخت یہ حیرانی ہے مجھ سے اس درجہ خفا کیوں ہو کوئی پردہ نشیں آرزو دید کی جب فطرت انسانی ہے فیصلہ دل کا ...

مزید پڑھیے

ہر ذرہ ہے جمال کی دنیا لیے ہوئے

ہر ذرہ ہے جمال کی دنیا لیے ہوئے انساں اگر ہو دیدۂ بینا لیے ہوئے کیف نگاہ سحر بیاں مستئ خرام ہم آئے ان کی بزم سے کیا کیا لیے ہوئے نقش و نگار دہر کی رعنائیاں نہ پوچھ در پردہ ہیں کسی کا سراپا لیے ہوئے بے لاگ میں گزر گیا ہر خوب و زشت سے اپنی نظر میں ذوق تماشا لیے ہوئے راہ حیات میں ...

مزید پڑھیے

رنگ یہ ہے اب ہمارے عشق کی تاثیر کا

رنگ یہ ہے اب ہمارے عشق کی تاثیر کا حسن آئینہ بنا ہے درد کی تصویر کا ایک عرصہ ہو گیا فرہاد کو گزرے ہوئے آؤ پھر تازہ کریں افسانہ جوئے شیر کا گلستاں کا ذرہ ذرہ جاگ اٹھے عندلیب لطف ہے اس وقت تیرے نالۂ شب گیر کا لیجئے اے شیخ پہلے اپنے ایماں کی خبر دیجئے پھر شوق سے فتویٰ مری تکفیر ...

مزید پڑھیے

دشمن ہیں وہ بھی جان کے جو ہیں ہمارے لوگ

دشمن ہیں وہ بھی جان کے جو ہیں ہمارے لوگ اور آپ کے ہیں دوست زمانے میں سارے لوگ آتا نہیں ہے ساحل بحر فنا نظر کیا جانیں پار ہوتے ہیں کس کے سہارے لوگ کیا جانیں ان کی چال میں اعجاز ہے کہ سحر وہ بھی انہیں سے مل گئے جو تھے ہمارے لوگ ہو کس زباں سے محفل دل دار کی ثنا وہ آفتاب حسن تو انجم ...

مزید پڑھیے

کس کی اس تک رسائی ہوتی ہے

کس کی اس تک رسائی ہوتی ہے ہاں مگر جس کی آئی ہوتی ہے یار ہم سے سیاہ بختوں کی زلف تک کب رسائی ہوتی ہے خوب مل کر گلے سے رو لینا اس سے دل کی صفائی ہوتی ہے ڈوبتی ہے ہماری کشتئ دل آپ سے آشنائی ہوتی ہے شور ہے الفراق کا ہر دم ہم سے ان سے جدائی ہوتی ہے لشکر غم کی کشور دل پر رات دن اب ...

مزید پڑھیے

جانتا اس کو ہوں دوا کی طرح

جانتا اس کو ہوں دوا کی طرح چاہتا اس کو ہوں شفا کی طرح ہے دہن غائب اور کمر عنقا خود بھی نایاب ہو ہما کی طرح چال نے تیری فتنۂ محشر پیس ڈالا مجھے حنا کی طرح خاک چھانی بہت پتا نہ ملا وہ ہے نایاب کیمیا کی طرح اس قدر ناتواں حقیرؔ ہیں ہم ہل نہیں سکتے نقش پا کی طرح

مزید پڑھیے

ہماری وہ وفاداری کہ توبہ

ہماری وہ وفاداری کہ توبہ اور اس کی وہ دل آزاری کہ توبہ مجھے اب موت بہتر زندگی سے وہ کی تم نے ستم گاری کہ توبہ تری زلفوں نے سنبل کو چمن میں پکڑ کر مار وہ ماری کہ توبہ نہ خود سویا دیا ان کو نہ سونے وہ شب بھر میں نے کی زاری کہ توبہ حقیرؔ اس دل کے ہاتھوں میں نے اب کے اٹھائی ایسی ...

مزید پڑھیے

طفلی پیری و نوجوانی ہیچ

طفلی پیری و نوجوانی ہیچ تین دن کی ہے زندگانی ہیچ عمر دو روزہ پر گھمنڈ اتنا منعموں کی ہے لن ترانی ہیچ رات تھوڑی ہے آؤ پیار کریں صبح کو ہوگی یہ کہانی ہیچ چار دن کی بہار ہے ساری یہ تکبر ہے یار جانی ہیچ دل کے ہاتھوں حقیرؔ جھگڑوں میں میری گزری سدا جوانی ہیچ

مزید پڑھیے

کعبۂ دل کو اگر ڈھایئے گا

کعبۂ دل کو اگر ڈھایئے گا یاد رکھئے کہ سزا پائیے گا یاد میں میری جو گھبرائیے گا میری تربت پہ چلے آئیے گا تھوڑی تکلیف سہی آنے میں دو گھڑی بیٹھ کے اٹھ جائیے گا یاد دلوا کے وہ اگلی باتیں بھری محفل میں نہ رلوائیے گا حال دل کہیے تو فرماتے ہیں بکتے بکتے مرا سر کھائیے گا یک ذرا آپ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3969 سے 6203