قومی زبان

واہمہ

زندگی کے ایسے دوراہے پر آ کر رک گیا ہوں ہر مسافر کہر آلودہ فضا میں ہر قدم احساس کی ڈوری سے انجانے سفر کے دھوپ چھاؤں ناپنے میں ایک اندھے کی طرح خالی ہواؤں میں چھڑی لہرا رہا ہے جس طرح جلتے ہوئے معذور پتوں کا ہوا کے رخ پر اٹھتا ہے دھواں اوہام کی چادر چڑھانے راستہ دکھلانے والے چاند ...

مزید پڑھیے

اس کی یاد اور درد کی سوغات میرے ساتھ تھی

اس کی یاد اور درد کی سوغات میرے ساتھ تھی اس سے بڑھ کر ایک تنہا رات میرے ساتھ تھی مجھ کو تنہائی میں بھی احساس تنہائی نہ تھا ہر گلی میں گردش حالات میرے ساتھ تھی رفتہ رفتہ بند کلیوں کے بھی لب کھلنے لگے آب صبر و حدت اثبات میرے ساتھ تھی بند کھڑکی پر بھی خالدؔ ایک دن پہرے لگے ایسی بھی ...

مزید پڑھیے

روشنی کا قالب جب تیرگی میں ڈھلتا ہے

روشنی کا قالب جب تیرگی میں ڈھلتا ہے خواہشوں کے سینے میں میرا دل مچلتا ہے ریگزار سوچوں کا سورجوں کی زد میں ہے جسم آرزوؤں کا ہولے ہولے جلتا ہے جب بھی کوئی ہم راہی ساتھ چھوڑ جاتا ہے مدتوں خیال اس کا ساتھ ساتھ چلتا ہے عمر بھر کی قسمت کب اتنا تو ٹھہر جاتا جتنا ایک مفلس کے گھر چراغ ...

مزید پڑھیے

اپنا پتہ مجھے بتا بہر خدا تو کون ہے

اپنا پتہ مجھے بتا بہر خدا تو کون ہے تجھ پہ ہیں سارے مبتلا بہر خدا تو کون ہے نام خدا سنا کیا تیرے سوا نہیں ملا ساری صفت سے ہے بھرا بہر خدا تو کون ہے تیرا حسد تو نام تھا ہو گیا بندہ کس طرح تیری ہی ذات ہے بقا بہر خدا تو کون ہے تیرے سے ہست کل ہوئی تھی تو عدم میں بے نشاں ہادی مظل ہے ...

مزید پڑھیے

آپ کو بھول کے میں یاد خدا کرتا ہوں

آپ کو بھول کے میں یاد خدا کرتا ہوں خود انا کہتا ہوں موجود بقاء کرتا ہوں کفر و اسلام کا موجد ہوا بندہ ہو کر پھر وہ میں کون ہوں جو خود ہوں کہا کرتا ہوں علم اعداد سے ہوتا ہے حجاب اکبر ایک ہر حال میں ہوں کل میں رہا کرتا ہوں ہوں بصارت میں نہاں عذر ہے بینائی کا روز روشن میں ہی خود آپ ...

مزید پڑھیے

شرک کا پردہ اٹھایا یار نے

شرک کا پردہ اٹھایا یار نے ہم کو جب اپنا بنایا یار نے روز روشن کی طرح دیکھا اسے گرچہ منہ اپنا چھپایا یار نے ظاہراً موجود ہے ہر شان سے ہر طرح رخ کو دکھایا یار نے خویش و بیگانہ فقط کہنے کو ہے اپنا دیوانہ بنایا یار نے بندہ بن جانا فقط چھپنے کو ہے گھر کو ویرانہ بنایا یار نے پھیر ...

مزید پڑھیے

زخم میرے دل پہ اک ایسا لگا

زخم میرے دل پہ اک ایسا لگا اپنی جاں کا روح کو دھڑکا لگا اس کا چہرہ بھی جو اوروں سا لگا آسماں پہ چاند مٹی کا لگا دیکھتا کیا کیا کنار آب جو خود میں اپنے آپ کو الٹا لگا خود نمائی کے بھرے اک شہر میں اپنے قد سے ہر کوئی اونچا لگا روشنی دل کی اچانک گل ہوئی خود کو تھوڑی دیر میں اندھا ...

مزید پڑھیے

ذہن کا کچھ منتشر تو حال کا خستہ رہا

ذہن کا کچھ منتشر تو حال کا خستہ رہا کتنا میری ذات سے وہ شخص وابستہ رہا صبح کاذب روشنی کے جال میں آنے لگی سیم گوں سورج اجالے پر کمر بستہ رہا دیکھنے میں کچھ ہوں میں محسوس کرنے میں ہوں کچھ چشم بینا پر مرا یہ راز سربستہ رہا اپنے زنداں سے نکلنا اپنی طاقت میں نہیں ہر بشر اپنے لیے ...

مزید پڑھیے

بارش رکی وباؤں کا بادل بھی چھٹ گیا

بارش رکی وباؤں کا بادل بھی چھٹ گیا ایسی چلیں ہوائیں کہ موسم پلٹ گیا پتھر پہ گر کے آئینہ ٹکڑوں میں بٹ گیا کتنا مرے وجود کا پیکر سمٹ گیا کٹتا نہیں ہے سرد و سیہ رات کا پہاڑ سورج تھا سخت دھوپ تھی دن پھر بھی کٹ گیا چھالیں شجر شجر سے اترنے کو آ گئیں بوسیدہ پیرہن ہوا اتنا کہ پھٹ ...

مزید پڑھیے

ریت کے اک شہر میں آباد ہیں در در کے لوگ

ریت کے اک شہر میں آباد ہیں در در کے لوگ بے زمیں بے آسماں بے پاؤں کے بے سر کے لوگ میرا گھائل جسم ہے میری رہائش کا پتہ میں جہاں رہتا ہوں رہتے ہیں وہاں پتھر کے لوگ ایک اک لمحہ ہے قطرہ زندگی کے خون کا عافیت کا سانس بھی لیتے ہیں تو ڈر ڈر کے لوگ اور دیواروں سے دیواریں نکلتی ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 360 سے 6203