قومی زبان

یہ کیا تحریر پاگل لکھ رہا ہے

یہ کیا تحریر پاگل لکھ رہا ہے ہر اک پیاسے کو بادل لکھ رہا ہے نہ رو گستاخ بیٹے کے عمل پر ترا گزرا ہوا کل لکھ رہا ہے پڑھو ہر موج آیت کی طرح ہے وہ دریا پر مسلسل لکھ رہا ہے تھمے پانی کو تبدیلی مبارک ہوا کا ہاتھ ہلچل لکھ رہا ہے تجھے چھونا نرالا تجربہ تھا وہ جھوٹا ہے جو مخمل لکھ رہا ...

مزید پڑھیے

گل ہیں تو آپ اپنی ہی خوشبو میں سوچئے

گل ہیں تو آپ اپنی ہی خوشبو میں سوچئے جو کچھ بھی سوچنا ہے وہ اردو میں سوچئے دل میں اگر نہیں ہے کسی زخم کی نمود سرخی کہاں سے آ گئی آنسو میں سوچئے یہ مسئلہ نہیں کہ جلیں گے کہاں چراغ کیسے ہوائیں آئیں گی قابو میں سوچئے یوں سرسری گزریے نہ اس دشت کرب سے وحشت کہ اضطراب ہے آہو میں ...

مزید پڑھیے

بے حسی پر حسیت کی داستاں لکھ دیجئے

بے حسی پر حسیت کی داستاں لکھ دیجئے دھوپ سے اب برف پر آب رواں لکھ دیجئے کاتب تقدیر ٹھہرے آپ کو روکے گا کون جو بھی انکر سر اٹھائے رائیگاں لکھ دیجئے آپ کی آنکھوں میں چبھ جائے گی ورنہ روشنی ہم چراغوں کے مقدر میں دھواں لکھ دیجئے مشتہر ہو جاؤں گا فرقہ پرستی کے لئے میری پیشانی پہ آپ ...

مزید پڑھیے

امیر شہر اس اک بات سے خفا ہے بہت

امیر شہر اس اک بات سے خفا ہے بہت کہ شہر بھر میں سگ‌ درد چیختا ہے بہت ہر ایک زخم سے زخموں کی کونپلیں پھوٹیں جو باغ تم نے لگایا تھا اب ہرا ہے بہت ذرا سی نرم روی سے پہنچ گئے دل تک تناؤ تھا تو سمجھتے تھے فاصلہ ہے بہت جو دم گھٹے تو شکایت نہ کیجیئے صاحب کہ سانس لینے کو زہروں بھری ہوا ...

مزید پڑھیے

بدن پر سبز موسم چھا رہے ہیں

بدن پر سبز موسم چھا رہے ہیں مگر ارمان سب مرجھا رہے ہیں پرانے غم کہاں ہجرت کریں گے دکانوں پر نئے غم آ رہے ہیں غلطیاں اگلے وقتوں سے ہوئی ہیں مگر صدیوں سے ہم پچھتا رہے ہیں یہاں ہے بوریا اب بھی ندارد بہت دن بعد وہ گھر آ رہے ہیں میاں بیرون و باطن ایک رکھو منافق بھی ہمیں سمجھا رہے ...

مزید پڑھیے

چلچلاتی دھوپ نے غصہ اتارا ہر جگہ

چلچلاتی دھوپ نے غصہ اتارا ہر جگہ چڑھ گیا اونچائی پر ذہنوں کا پارا ہر جگہ اس زمیں پر ہم جہاں بھی ہیں وہاں تاراج ہیں آج کل گردش میں ہے اپنا ستارا ہر جگہ اپنی کیا گنتی فرشتے بھی وہاں مارے گئے خواہشوں نے مینکا کا روپ دھارا ہر جگہ مانگ لیتی ہے ہوا اچھے مواقع دیکھ کر اک نہ اک مٹھی ...

مزید پڑھیے

بھلے ہی آنکھ مری ساری رات جاگے گی

بھلے ہی آنکھ مری ساری رات جاگے گی سجا سجا کے سلیقے سے خواب دیکھے گی اجالا اپنے گھروندے میں رہ گیا تو رات کہاں قیام کرے گی کہاں سے گزرے گی ہماری آنکھ سمندر کھنگالنے والی یقین ہے کہ کبھی موتیوں سے کھیلے گی خود اعتمادی ذرا اعتدال میں رکھیو الٹ گئی تو وہ اپنی زبان بھولے گی سہانی ...

مزید پڑھیے

قسم اس بدن کی

قسم اس بدن کی اور قسم اس بدن پر کھلے پھولوں کی رت بہار کی ہے اور ہوا کی رانوں میں مہک کھلی ہے اب تک۔۔۔ بریزئیر میں تنی ان چھاتیوں سے پرندے اپنی چونچوں میں شیر بھر کے لاتے ہیں اور محبت کی ابدیت کے گیت گاتے ہیں۔'' لے میں جن کی حرارت ان شبوں کی ہے گزریں جو قربت میں تیرے بدن کی گہری ...

مزید پڑھیے

تم روح کے ساز پہ

تم روح کے ساز پہ گیت گاتی رہو میں تن کی خیر مانگتا ہوں ہمیں آزادی کی یہ صدی عاریتاً ملی ہے اس کا اسراف احتیاط مانگے گا تم کچھ احتیاط بچا رکھنا میں جنگلوں کے سفر سے سلامت لوٹ آیا تو تم سے مستعار لے لوں گا یہ احتیاط تم اپنے گھر کی انگیٹھی میں کڑکڑاتی لکڑیوں کے کوئلوں سے راکھ ...

مزید پڑھیے

رکھا ہے بزم میں اس نے چراغ کر کے مجھے

رکھا ہے بزم میں اس نے چراغ کر کے مجھے ابھی تو سننا ہے افسانے رات بھر کے مجھے یہ بات تو مرے خواب و خیال میں بھی نہ تھی ستائیں گے در و دیوار میرے گھر کے مجھے میں چاہتا تھا کسی پیڑ کا گھنا سایہ دعائیں دھوپ نے بھیجی ہیں صحن بھر کے مجھے وہ میرا ہاتھ تو چھوڑیں کہ میں قدم موڑوں بلا رہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 318 سے 6203