جب اتنی جاں سے محبت بڑھا کے رکھی تھی
جب اتنی جاں سے محبت بڑھا کے رکھی تھی تو کیوں قریب ہوا شمع لا کے رکھی تھی فلک نے بھی نہ ٹھکانا کہیں دیا ہم کو مکاں کی نیو زمیں سے ہٹا کے رکھی تھی ذرا پھوار پڑی اور آبلے اگ آئے عجیب پیاس بدن میں دبا کے رکھی تھی اگرچہ خیمۂ شب کل بھی تھا اداس بہت کم از کم آگ تو ہم نے جلا کے رکھی ...