سب سے بہتر ہے کہ مجھ پر مہرباں کوئی نہ ہو
سب سے بہتر ہے کہ مجھ پر مہرباں کوئی نہ ہو ہم نشیں کوئی نہ ہو اور راز داں کوئی نہ ہو لال مت سمجھو زبان شمع کو خامش ہے یہ بات پھر کس سے کرے جب ہم زباں کوئی نہ ہو مریے اس حسرت میں گر قاتل نہ ہاتھ آوے کہیں روئیے اپنے پہ خود گر نوحہ خواں کوئی نہ ہو بیچ میں ہے میرے اس کے تو ہی اے آہ ...