قومی زبان

سچ ہے کہ آہ سرد مری بے اثر نہیں

سچ ہے کہ آہ سرد مری بے اثر نہیں پتھر کو جھاڑیے تو نکلتا شرر نہیں اوروں کو ہو تو ہو ہمیں مرنے سے ڈر نہیں خط لے کے ہم ہی جاتے ہیں گر نامہ بر نہیں ہر چند مجھ میں کوئی کمال و ہنر نہیں ہر چرخ کینہ دوز سے میں بے خطر نہیں اٹھتا قدم جو آگے کو اب راہبر نہیں پیچھے تو چھوڑ آئے کہیں اس کا گھر ...

مزید پڑھیے

وحشت میں یاد آئے ہے زنجیر دیکھ کر

وحشت میں یاد آئے ہے زنجیر دیکھ کر ہم بھاگتے تھے زلف گرہ گیر دیکھ کر جب تک نہ خاک ہو جیے حاصل نہیں کمال یہ بات کھل گئی ہمیں اکسیر دیکھ کر عذر گناہ داور محشر سے کیوں کروں غم مٹ گیا ہے نامۂ تقدیر دیکھ کر ہوں تشنہ کام دشت شہادت زبس کہ میں گرتا ہوں آب خنجر و شمشیر دیکھ کر عارفؔ چھپا ...

مزید پڑھیے

اس پہ کرنا مرے نالوں نے اثر چھوڑ دیا

اس پہ کرنا مرے نالوں نے اثر چھوڑ دیا مجھ کو ایک لطف کی کر کے جو نظر چھوڑ دیا سونپ کر خانۂ دل غم کو کدھر جاتے ہو پھر نہ پاؤ گے اگر اس نے یہ گھر چھوڑ دیا اشک سوزاں نے جلائے مرے لاکھوں دامن پونچھنا میں نے تو اب دیدۂ تر چھوڑ دیا بخیہ گر جل گیا کیا ہاتھ ترا سوزش سے کرتے کرتے جو رفو چاک ...

مزید پڑھیے

مر جائیں گے لیکن کبھی الفت نہ کریں گے

مر جائیں گے لیکن کبھی الفت نہ کریں گے ہم جینے کو اپنے یہ مصیبت نہ کریں گے ہے دل میں کہ مل جائیے اب بو الہوسوں میں پھر ہم سے کہاں تک وہ مروت نہ کریں گے کہتے ہیں مری جان کا جانا نہیں ممکن جب تک وہ مجھے آپ سے رخصت نہ کریں گے اے خضر جو پینا ہو ہمیں آب بقا بھی اس پھرنے سے مے خانہ کی ...

مزید پڑھیے

اس در پہ مجھے یار مچلنے نہیں دیتے

اس در پہ مجھے یار مچلنے نہیں دیتے ارمان مرے جی کے نکلنے نہیں دیتے دم دم میں خبر پہنچے ہے جو آنے کی اپنی ہے جان لبوں پر وہ نکلنے نہیں دیتے آشوب قیامت سے زبس خوف ہے سب کو دو چار قدم بھی انہیں چلنے نہیں دیتے جاتا ہے صفائے رخ دل دار پہ جب دل مقدور تک اپنے تو پھسلنے نہیں دیتے عادت ...

مزید پڑھیے

زور پر آہ تھی اور نالۂ شب گیر بھی تھا

زور پر آہ تھی اور نالۂ شب گیر بھی تھا مانتا ہم کو کبھی یہ فلک پیر بھی تھا حور کا دھیان رہا وقت شہادت سب کو محو صورت پہ تری میں دم تکبیر بھی تھا در بدر مجھ کو کیا در سے اٹھا کر اپنے تیرا عاشق تو میں تھا شہر میں تشہیر بھی تھا بندگی قہر ہے الزام اٹھاتے ہی بنی حشر میں پیش اگرچہ خط ...

مزید پڑھیے

ان کی اور میری کسی روز لڑائی نہ گئی

ان کی اور میری کسی روز لڑائی نہ گئی بات بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئی ہم نے ہر چند ملا ان کو بہت روغن قاز پر کسی شکل ذرا ان کی رکھائی نہ گئی کیوں نہ کھاتا ترے ملنے کی قسم ہو کے یہ تنگ تھی مگر زہر سے بھی تلخ کہ کھائی نہ گئی اس قدر ضعف میں آواز نکلتی تو کہاں ہم سے زنجیر در یار ...

مزید پڑھیے

کی میرے تڑپنے کی نہ تدبیر کسی نے

کی میرے تڑپنے کی نہ تدبیر کسی نے اس کی نہ دکھائی مجھے تصویر کسی نے کھانوں سے منوں غم کے بھی سیری نہیں ہوتی کیا مجھ کو کھلا دی کہیں اکسیر کسی نے یہ کوہ کن و قیس یوں ہی مر گئے آخر دیکھی نہ کبھی آہ کی تاثیر کسی نے شاد اس نگہ یار کے دھوکے میں ہوا ہوں مارا ہے میرے سینے میں جب تیر کسی ...

مزید پڑھیے

میرے دل کو بٹھا دیا کس نے

میرے دل کو بٹھا دیا کس نے آ کے کعبے کو ڈھا دیا کس نے پوچھو اپنے ہی غمزے سے کہ مجھے خاک میں ہی ملا دیا کس نے کیا تماشا ہے پوچھتے ہیں وہی تیرے گھر کو لٹا دیا کس نے شب فرقت میں کیا نہ ہم کھاتے ہم کو پر زہر لا دیا کس نے وہ جلا دیتے ہیں جو خط میرا ان کو عارفؔ پڑھا دیا کس نے

مزید پڑھیے

ہیں ہم بھی خوب چاہ کا ساماں کیے ہوئے

ہیں ہم بھی خوب چاہ کا ساماں کیے ہوئے بیٹھے ہیں گھر کو پہلے ہی ویراں کیے ہوئے دھوکے میں آ کے باغ جہاں میں چلے گئے دل میں گمان کوچۂ جاناں کیے ہوئے بیٹھا ہوں روز ہجر میں ہر اک گھڑی پہ میں عزم شمار ریگ بیاباں کئے ہوئے پاس ان کو رہوے اپنے جو ناموس و ننگ کا ہم بھی پھریں گے چاک گریباں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 253 سے 6203