قومی زبان

عمر گزری ہے کامرانی سے

عمر گزری ہے کامرانی سے کوئی شکوہ نہیں جوانی سے مثل آدم ہے بے گھری اپنی کون ڈرتا ہے بے مکانی سے یوں مسلسل عذاب جھیلا ہے اشک لگنے لگے ہیں پانی سے ہم ہی کردار تھے کہانی کے ہم ہی باہر ہوئے کہانی سے سچ چھپانا محال ہے صاحب جھوٹ سے یا کہ لن ترانی سے کیا وہ پریاں قمر اسیر ہوئیں سنتے ...

مزید پڑھیے

کیا بتائیں غم فرقت میں کہاں سے گزرے

کیا بتائیں غم فرقت میں کہاں سے گزرے موسم گل سے جو نکلے تو خزاں سے گزرے دل سے آنکھوں سے مکینوں سے مکاں سے گزرے درد پھر درد ہے جب چاہے جہاں سے گزرے حسن کی شوخ سری کا یہی حاصل نکلا آتش عشق بڑھی آہ و فغاں سے گزرے رقص کرتے ہی رہے خواب دھنوں پر لیکن سانس کے تار سبھی سوز نہاں سے ...

مزید پڑھیے

درد کو ضبط کی سرحد سے گزر جانے دو

درد کو ضبط کی سرحد سے گزر جانے دو اب سمیٹو نہ ہمیں اور بکھر جانے دو ہم سے ہوگا نہ کبھی اپنی خودی کا سودا ہم اگر دل سے اترتے ہیں اتر جانے دو تم تعین نہ کرو اپنی حدوں کا ہرگز جب بھی جیسے بھی جہاں جائے نظر جانے دو اتنا کافی ہے کہ وہ ساتھ نہیں ہے میرے کیوں ہوا کیسے ہوا چاک جگر جانے ...

مزید پڑھیے

اے قلندر آ تصوف میں سنور کر رقص کر

اے قلندر آ تصوف میں سنور کر رقص کر عشق کے سب خارزاروں سے گزر کر رقص کر عقل کی وسعت بہت ہے عشق میں فرصت ہے کم عقل کی عیاریوں کو درگزر کر رقص کر در بدر کیوں ڈھونڈھتا پھرتا ہے نادیدہ صنم اپنے دل کے آئنے پر اک نظر کر رقص کر یہ جہاں اک مے کدہ کم ظرف ہے ساقی ترا اس خرابے سے پرے شام و ...

مزید پڑھیے

اک عشق ناتمام ہے رسوائیاں تمام

اک عشق ناتمام ہے رسوائیاں تمام اگنے لگی ہیں جسم میں تنہائیاں تمام کیا شہر آرزو تھا بسا اور اجڑ گیا اب سر کشیدہ پھرتی ہیں پروائیاں تمام سانسوں کے زیر و بم سے ہے ساغر میں اضطراب جام و سبو سے پر اثر انگڑائیاں تمام روز ازل سے سوچتے ذہنوں کی ہم سفر صحرا کی دھوپ اور یہ پرچھائیاں ...

مزید پڑھیے

احساس کا قصہ ہے سنانا تو پڑے گا

احساس کا قصہ ہے سنانا تو پڑے گا ہر زخم کو اب پھول بنانا تو پڑے گا ممکن ہے مرے شعر میں ہر راز ہو لیکن اک راز پس شعر چھپانا تو پڑے گا آنکھوں کے جزیروں پہ ہیں نیلم کی قطاریں خوابوں کا جنازہ ہے اٹھانا تو پڑے گا چہرے پہ کئی چہرے لیے پھرتی ہے دنیا اب آئنہ دنیا کو دکھانا تو پڑے ...

مزید پڑھیے

اس بزم تصور میں بس یار کی باتیں ہیں

اس بزم تصور میں بس یار کی باتیں ہیں مژگاں کے قصیدے ہیں رخسار کی باتیں ہیں ہونٹوں کے دریچوں پر دل دار کی باتیں ہیں پردہ بھی ہے پردے میں دیدار کی باتیں ہیں اظہار محبت کا انداز نرالا ہے انکار کے لہجے میں اقرار کی باتیں ہیں دن رات تصور میں تصویر تمہاری ہے اس پار کی دنیا میں اس پار ...

مزید پڑھیے

زندگی خار زار میں گزری

زندگی خار زار میں گزری جستجوئے بہار میں گزری کچھ تو پیمان یار میں گزری اور کچھ اعتبار میں گزری منزل زیست ہم سے سر نہ ہوئی یاد گیسوئے یار میں گزری پھول گریاں تھے ہر کلی لرزاں جانے کیسی بہار میں گزری زندگانی طویل تھی لیکن موت کے انتظار میں گزری آپ سے مل کے زندگی اپنی جستجوئے ...

مزید پڑھیے

کشمکش

پھر کسی موڑ سے سنگیت کی لے آتی ہے رقص کرتے ہیں کہیں ساغر و مینا جیسے نکہت گل ہے کہیں مست گلشن ہے کہیں مہکی مہکی ہے ہوا بھینی بھینی سی فضاؤں میں ہے خوشبو شامل اک مقدس تنویر اک لطافت ہر سو مجھ کو لگتا ہے یہی چشم روشن مری ہستی کو ہے یوں گھیرے ہوئے جیسے ماں بچے کو باہوں میں جکڑ لیتی ...

مزید پڑھیے

یادیں

عہد ماضی کے جھروکوں سے چلی آتی ہیں مسکراتی ہوئی یادیں میری گنگناتی ہوئی یادیں میری اور محسوس یہ ہوتا ہے مجھے جیسے بنجر سی زمیں قطرۂ ابر گہر بار سے شاداب بنی جیسے صحرا میں بھٹکتے ہوئے اک راہی کو چشمۂ آب ملا جیسے پامال تمنائیں ترشح پا کر پھر تر و تازہ ہوئیں جیسے ترسیدہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 241 سے 6203