قومی زبان

کر دیا دہر کو اندھیر کا مسکن کیسا

کر دیا دہر کو اندھیر کا مسکن کیسا ہر طرف نام کیا آپ نے روشن کیسا لگ گئی ایک جھڑی جب مرا جی بھر آیا لوگ ساون کو لئے پھرتے ہیں ساون کیسا دختر رز سے الجھتے ہو یہ کیا حضرت شیخ بندہ پرور یہ بڑھاپے میں لڑکپن کیسا دوست ہی تھا جسے ناطقؔ نہ ہوئی کچھ پروا ورنہ رویا ہے مرے حال پہ دشمن ...

مزید پڑھیے

بھر پائے جان زار تری دوستی سے ہم

بھر پائے جان زار تری دوستی سے ہم جیتے رہے تو اب نہ ملیں گے کسی سے ہم ہیں قافلہ کے ساتھ مگر ہے روش جدا ملتے ہیں سب سے اور نہیں ملتے کسی سے ہم ذکر شراب ناب پہ واعظ اکھڑ گیا بولے تھے اچھی بات بھلے آدمی سے ہم پابند دیر ہو کے بھی بھولے نہیں ہیں گھر مسجد میں جا نکلتے ہیں چوری چھپی سے ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈھتی ہے اضطراب شوق کی دنیا مجھے

ڈھونڈھتی ہے اضطراب شوق کی دنیا مجھے آپ نے محفل سے اٹھوا کر کہاں رکھا مجھے اے نگاہ مست اس کا نام ہے کیف سرور آج تو نے دیکھ کر میری طرف دیکھا مجھے یار سے ہو کر جدا جور فلک کا غم نہیں ہو چکی وہ بات تھی جس بات کی پروا مجھے ساتھ بھی چھوڑا تو کب جب سب برے دن کٹ گئے زندگی تو نے کہاں آ کر ...

مزید پڑھیے

ظاہر نہ تھا نہیں سہی لیکن ظہور تھا

ظاہر نہ تھا نہیں سہی لیکن ظہور تھا کچھ کیوں نہ تھا جہان میں کچھ تو ضرور تھا مے کو مرے سرور سے حاصل سرور تھا میں تھا نشہ میں چور نشہ مجھ میں چور تھا کم مایہ فرد جرم ہے کیا کہئے اے کریم ہم سے کمی ہوئی یہ ہمارا قصور تھا لے جا رہے ہیں دوست مجھے آ رہا ہے دوست کیا موت کو بھی آج ہی مرنا ...

مزید پڑھیے

بزم دنیا جس کو کہتے ہیں وہ پاگل خانہ تھا

بزم دنیا جس کو کہتے ہیں وہ پاگل خانہ تھا ہم نے خود دیکھا ہے مطلب کا ہر اک دیوانہ تھا باغباں یہ چار تنکے تھے پڑے رہتے کہیں نخل ماتم پر بھی کیا بھاری مرا کاشانہ تھا اے شب ہجراں زیادہ پاؤں پھیلاتی ہے کیوں بھر گیا جتنا ہماری عمر کا پیمانہ تھا ڈھونڈو تو بت بھی یہیں مل جائیں گے مرد ...

مزید پڑھیے

شمع کشتہ کی طرح میں تری محفل سے اٹھا

شمع کشتہ کی طرح میں تری محفل سے اٹھا آہ کیسی وہ دھواں تھا جو بجھے دل سے اٹھا کھیل ہے ہستئ موہوم مگر ہے دلچسپ جو یہاں بیٹھ گیا آ کے وہ مشکل سے اٹھا تو نے یہ کس کو اٹھایا ہے کہ دل بیٹھ گئے کون بیٹھا ہے کہ فتنہ تری محفل سے اٹھا کون غرقاب ہوا ہے کہ اڑاتا ہوا خاک آج بے تاب بگولا لب ...

مزید پڑھیے

آج مے خانہ میں برکت ہی سہی

آج مے خانہ میں برکت ہی سہی مے کشو آؤ عبادت ہی سہی چاہئے کچھ تو پئے نذر کرم اے گنہ گار ندامت ہی سہی معنی حسن سمجھ لیں گے کبھی ابھی محویت صورت ہی سہی زندگی موت سے بہتر ہے ضرور ہے مصیبت تو مصیبت ہی سہی نہ سہی بر طرف اے حسن ابھی چار دن کی ہمیں رخصت ہی سہی ہے ہمیں اپنی محبت سے غرض ان ...

مزید پڑھیے

جس کی حسرت تھی اسے پا بھی چکے کھو بھی چکے (ردیف .. ا)

جس کی حسرت تھی اسے پا بھی چکے کھو بھی چکے اب کسی چیز کا ہم کو نہیں ارماں ہوتا شدت درد ہی ہوتی کہیں غارت گر ہوش بخت اتنا تو نہ برہم زن ساماں ہوتا چارہ گر کوشش بے سود ہے تدبیر علاج ہم نہ ہوتے تو مرض قابل درماں ہوتا آ ہی جاتا ہے برے وقت میں اپنوں کو خیال کوئی ہوتا جو ہمارا بھی تو ...

مزید پڑھیے

عالم کون و مکاں نام ہے ویرانے کا

عالم کون و مکاں نام ہے ویرانے کا پاس وحشت نہیں گھر دور ہے دیوانے کا زہر واعظ کے لئے نام ہے پیمانے کا یہ بھی کیا مرد خدا چور ہے مے خانے کا کبھی فرصت ہو مصیبت سے تو اٹھ کر دیکھوں کون سے گوشے میں آرام ہے کاشانے کا بے خود شوق ہوں آتا ہے خدا یاد مجھے راستہ بھول کے بیٹھا ہوں صنم خانے ...

مزید پڑھیے

مجنوں سے جو نفرت ہے دیوانی ہے تو لیلیٰ (ردیف .. ا)

مجنوں سے جو نفرت ہے دیوانی ہے تو لیلیٰ وہ خاک اڑاتا ہے لیکن نہیں دل میلا غل شور کہاں کا ہے سن تو سہی او ظالم کیا ہے ترے کوچہ میں کیسا ہے یہ واویلا اب گردش دوراں کو لے آتے ہیں قابو میں ہم دور چلاتے ہیں ساقی سے کہو مے لا ہم ہیں تو نہ رکھیں گے اتنا تجھے افسردہ چل نغمۂ ناطقؔ سن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2262 سے 6203