ہولی
میاں تو ہم سے نہ رکھ کچھ غبار ہولی میں کہ روٹھے ملتے ہیں آپس میں یار ہولی میں مچی ہے رنگ کی کیسی بہار ہولی میں ہوا ہے زور چمن آشکار ہولی میں عجب یہ ہند کی دیکھی بہار ہولی میں اب اس مہینے میں پہنچی ہے یاں تلک یہ چال فلک کا جامہ پہن سرخیٔ شفق سے لال بنا کے چاند کے سورج کے آسماں پر ...