قومی زبان

ہولی

میاں تو ہم سے نہ رکھ کچھ غبار ہولی میں کہ روٹھے ملتے ہیں آپس میں یار ہولی میں مچی ہے رنگ کی کیسی بہار ہولی میں ہوا ہے زور چمن آشکار ہولی میں عجب یہ ہند کی دیکھی بہار ہولی میں اب اس مہینے میں پہنچی ہے یاں تلک یہ چال فلک کا جامہ پہن سرخیٔ شفق سے لال بنا کے چاند کے سورج کے آسماں پر ...

مزید پڑھیے

جاڑے کی بہاریں

جب ماہ اگھن کا ڈھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی اور ہنس ہنس پوس سنبھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی دن جلدی جلدی چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی اور پالا برف پگھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی چلا غم ٹھونک اچھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی تن ٹھوکر مار پچھاڑا ہو اور دل سے ہوتی ہو کشتی ...

مزید پڑھیے

عید

یوں لب سے اپنے نکلے ہے اب بار بار آہ کرتا ہے جس طرح کہ دل بے قرار آہ ہم عید کے بھی دن رہے امیدوار آہ ہو جی میں اپنے عید کی فرحت سے شاد کام خوباں سے اپنے اپنے لیے سب نے دل کے کام دل کھول کھول سب ملے آپس میں خاص و عام آغوش خلق گل بدنوں سے بھرے تمام خالی رہا پر ایک ہمارا کنار آہ کیا ...

مزید پڑھیے

پیسا

نقش یاں جس کے میاں ہاتھ لگا پیسے کا اس نے تیار ہر اک ٹھاٹھ کیا پیسے کا گھر بھی پاکیزہ عمارت سے بنا پیسے کا کھانا آرام سے کھانے کو ملا پیسے کا کپڑا تن کا بھی ملا زیب فزا پیسے کا جب ہوا پیسے کا اے دوستو آ کر سنجوگ عشرتیں پاس ہوئیں دور ہوئے من کے روگ کھائے جب مال پوے دودھ دہی موہن ...

مزید پڑھیے

ہولی

جب آئی ہولی رنگ بھری سو ناز و ادا سے مٹک مٹک اور گھونگھٹ کے پٹ کھول دئے وہ روپ دکھلا چمک چمک کچھ مکھڑا کرتا دمک دمک کچھ ابرن کرتا جھلک جھلک جب پاؤں رکھا خوش وقتی سے تب پائل باجی جھنک جھنک کچھ اچھلیں سنتیں ناز بھریں کچھ گودیں آئیں تھرک تھرک یہ روپ دکھا کر ہولی کے جب مین رسیلے ٹک ...

مزید پڑھیے

ہولی

ہوا جو آ کے نشاں آشکار ہولی کا بجا رباب سے مل کر ستار ہولی کا سرود رقص ہوا بے شمار ہولی کا ہنسی خوشی میں بڑھا کاروبار ہولی کا زباں پہ نام ہوا بار بار ہولی کا خوشی کی دھوم سے ہر گھر میں رنگ بنوائے گلال عبیر کے بھر بھر کے تھال رکھوائے نشوں کے جوش ہوئے راگ رنگ ٹھہرائے جھمکتے روپ کے ...

مزید پڑھیے

دیوالی

دوستو کیا کیا دوالی میں نشاط و عیش ہے سب مہیا ہے جو اس ہنگام کے شایان ہے اس طرح ہیں کوچہ و بازار پر نقش و نگار ہو عیاں حسن نگارستاں کی جن سے خوب رے گرم جوشی اپنی با جام چراغاں لطف سے کیا ہی روشن کر رہی ہے ہر طرف روغن کی مے مائل سیر چراغاں نخل ہر جا دم بدم حاصل نظارہ حسن شمع رویاں پے ...

مزید پڑھیے

مفلسی

جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسی کس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسی پیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسی بھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسی یہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسی کہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاں تعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاں مفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاں عیسیٰ بھی ہو تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2204 سے 6203