رکھتی ہے جو خوش چاہ تمہاری ہم کو
رکھتی ہے جو خوش چاہ تمہاری ہم کو اور کرتی ہے شاد باری باری ہم کو کچھ دیر جو کہ تھی ہم نے دل دیتے وقت اب تک ہے اسی کی سرشاری ہم کو
رکھتی ہے جو خوش چاہ تمہاری ہم کو اور کرتی ہے شاد باری باری ہم کو کچھ دیر جو کہ تھی ہم نے دل دیتے وقت اب تک ہے اسی کی سرشاری ہم کو
آئینہ جو ہاتھ اس کے نے تا دیر لیا اس دیر سے خجلت نے ہمیں گھیر لیا جب ہم نے کہا کیا یہی عاشق ہے میاں یہ سنتے ہی آئینے سے منہ پھیر لیا
ہوں کیوں نہ بتوں کی ہم کو دل سے چاہیں ہیں ناز و ادا میں ان کو کیا کیا راہیں دل لینے کو سینے سے لپٹ کر کیا کیا ڈالے ہیں گلے میں پتلی پتلی باہیں
اس زلف نے ہم سے لے کے دل بستہ کیا ابرو نے کجی کے ڈھب کو پیوستہ کیا آنکھوں نے نگہ نے اور مژہ نے کیا کیا کیفی کیا دیوانہ کیا خستہ کیا
اے دل جو یہ آنکھ آج لڑائی اس نے اور پل میں لڑا کے پھر جھکائی اس نے اپنی بے باکی اور حیا کی خوبی تھی ہم کو دکھانی سو دکھائی اس نے
ساقی سے جو ہم نے مے کا اک جام لیا پیتے ہی نشے کا یہ سرانجام لیا معلوم نہیں جھک گئے یا بیٹھے رہے یا گر پڑے یا کسی نے پھر تھام لیا
ہم دیکھ کے تم سے رخ آرام میاں خوش رہتے ہیں دل میں سحر و شام میاں دیوانے تمہارے جب ادا کے ٹھہرے پھر حسن پری سے ہمیں کیا کام میاں
دل دیکھ اسے جس گھڑی بے تاب ہوا اور چاہ ذقن سے مثل گرداب ہوا کی عرض کہ بے قرار دل ہے تو کہا اب دل نہ کہو اسے جو سیماب ہوا
ہم اس کی جفا سے جی میں ہو کر دلگیر رک بیٹھے تو ہیں ولے کریں کیا تقریر دل ہاتھ سے جاتا ہے بغیر اس سے ملے اب جو نہ پڑیں پاؤں تو پھر کیا تدبیر
دل خوشامد سے ہر اک شخص کا کیا راضی ہے آدمی جن پری و بھوت بلا راضی ہے بھائی فرزند بھی خوش باپ چچا راضی ہے شاد مسرور غنی شاہ و گدا راضی ہے جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے حق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے اپنا مطلب ہو تو مطلب کی خوشامد کیجے اور نہ ہو کام تو اس ڈھب کی خوشامد ...