قومی زبان

اے دیدۂ گریاں کیا کہیے اس پیار بھرے افسانے کو

اے دیدۂ گریاں کیا کہیے اس پیار بھرے افسانے کو اک شمع جلی بجھنے کے لیے اک پھول کھلا مرجھانے کو میں اپنے پیار کا دیپ لیے آفاق میں ہر سو گھوم گیا تم دور کہیں جا پہنچے تھے آکاش پہ جی بہلانے کو وہ پھول سے لمحے بھاری ہیں اب یاد کے نازک شانوں پر جو پیار سے تم نے سونپے تھے آغاز میں اک ...

مزید پڑھیے

پیار کی راہ میں ایسے بھی مقام آتے ہیں

پیار کی راہ میں ایسے بھی مقام آتے ہیں صرف آنسو جہاں انسان کے کام آتے ہیں ان کی آنکھوں سے رکھے کیا کوئی امید کرم پیاس مٹ جائے تو گردش میں وہ جام آتے ہیں زندگی بن کے وہ چلتے ہیں مری سانس کے ساتھ ان کو ایسے کئی انداز خرام آتے ہیں ہم نہ چاہیں تو کبھی شام کے سائے نہ ڈھلیں ہم تڑپتے ہیں ...

مزید پڑھیے

تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے

تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے departing from your company, where could your lovers go? what would happen to those legends that around you grow? نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے if on leaving temple,mosque no tavern were be found what refuge would outcasts find? this only ...

مزید پڑھیے

حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں

حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں وہ ترے حسن کی قیمت سے نہیں ہیں واقف پنکھڑی کو جو ترے لب کا بدل کہتے ہیں پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا ہم تو اس کو بھی تری زلف کا بل کہتے ...

مزید پڑھیے

کل منج وزیر دل تھے قاصد بشارت آیا

کل منج وزیر دل تھے قاصد بشارت آیا یا حضرت سلیماں کن تھے اشارت آیا خوش نین نیر سیتی تن خاک کوں گلاوو دل کے مندہر کوں سر تھے وقت عمارت آیا میرا سو عیب ڈھانکو اے مے سوں بھیگے کپڑے او پاک دامن آپی ہمنا بچارت آیا منج یار حسن تھے جے بولے ہیں باتاں بے حد یک باب ہے سو ان میں جو اس عبارت ...

مزید پڑھیے

ترے قد تھے سرو تازہ ہے جم

ترے قد تھے سرو تازہ ہے جم او چایا ہے یا نو چمن میں علم تو ہے چند تارے ہیں لشکر ترے توں ہے شاہ خوباں میں تیرا حشم ورق صنع پرنیں لکھیا تج سا ہور ازل کے مصور کا ہرگز قلم سکندر کوں تھی آرسی جم کوں جام ترے ہست ہے درپن ہور جام جم ترے مکھ کے پھل بن کوں دیکھ لاج تھے چھپایا ہے مکھ آپنے ...

مزید پڑھیے

مدن مست بدل مست کجن مست پری مست

مدن مست بدل مست کجن مست پری مست ہوئی مست پون مست لگن مست پری مست چڑھی مست بہی مست ڈلی مست رہی مست مکھا مست سدا مست صحن مست پری مست کھڑی مست انچل مست ڈھلی مست اوڑھی مست گزک مست نقل مست بچن مست پری مست پری مست پیون مست سرا مست ہوئی مست ملی مست کھجی مست رسن مست پری مست کھپا مست ...

مزید پڑھیے

سکی تج زلف ہے جیواں کے آخذ

سکی تج زلف ہے جیواں کے آخذ دسن تیرے اہیں رتناں کے آخذ تری نیناں تھے پنچے ہیں منتر سب ترے نازاں ہیں سب ستھراں کے آخذ سہے تج سیس پرانچل سہیلی سہے سب عاشق در واں کے آخذ تری پتلیاں بھلائیاں ہیں جگت کوں نین دو مست ہیں مستاں کے آخذ نکھاں میرے ہیں تج جوبن کے مشتاق ادھر میرے ترے ...

مزید پڑھیے

پیاری کے نیناں ہیں جیسے کٹارے

پیاری کے نیناں ہیں جیسے کٹارے نہ سم اس کے انگے کوئی ہیں دو دھارے اثر تج محبت کا جس کوں چڑے گا ترے لعل بن اس کوں کوئی نہ اتارے دو لوچن ہیں تیرے نسنگ چور راوت او نو سوں دلیری نہ کر سب ہی ہارے سہاتا ہے تج کوں گماں ہور غروری کہ ماتے اہیں تج حسن کے پیارے سکیاں میں تو ہے مرگ نینی ...

مزید پڑھیے

پیا کے نین میں بہت چھند ہے

پیا کے نین میں بہت چھند ہے او وو زلف میں جیو کا آنند ہے سجن یوں مٹھائی سوں بولے بچن کہ اس خوش بچن میں لذت قند ہے موہن کے او دو گال تشبیہ میں سرج ایک دوجا سو جوں چند ہے نول مکھ سہے حسن کا پھولبن نین مرگ ہور زلف اس پھند ہے او کسوت تھے جیو باس مہکے سدا تو او باس ناریاں کا دل بند ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1845 سے 6203