اک ایسا وقت بھی آتا ہے چاندنی شب میں
اک ایسا وقت بھی آتا ہے چاندنی شب میں مرا دماغ مرا دل کہیں نہیں ہوتا ترا خیال کچھ ایسا نکھر کے آتا ہے ترا وصال بھی اتنا حسیں نہیں ہوتا
اک ایسا وقت بھی آتا ہے چاندنی شب میں مرا دماغ مرا دل کہیں نہیں ہوتا ترا خیال کچھ ایسا نکھر کے آتا ہے ترا وصال بھی اتنا حسیں نہیں ہوتا
لیتا تھا جوانی میں کبھی جس کی پناہ وہ پیار نظر آتا ہے اب اس کو گناہ کیا ہو گیا اس عمر میں جانے اس کو یارب مرے دلبر کو دکھا سیدھی راہ
ٹوٹی ہوئی بانبی میں وہ بس لیتا ہے بھوکا ہو تو کچھ روز ترس لیتا ہے اس پر بھی نہیں سانپ کو ڈستا کوئی سانپ انساں مگر انسان کو ڈس لیتا ہے
آتی ہے تو کھلتی ہے گلابوں کی طرح دیتی ہے نشہ تند شرابوں کی طرح لیکن کوئی دیکھے یہ جوانی کا مآل بکھری ہے پڑھی ہوئی کتابوں کی طرح
لمحوں کا نشانہ کبھی ہوتا ہی نہیں وہ صید زمانہ کبھی ہوتا ہی نہیں ہر عمر میں دیکھا ہے دمکتا وہ بدن سونا تو پرانا کبھی ہوتا ہی نہیں
لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے میں نے دیکھا ہے کہ جب مری زباں ڈولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے تیرا اصرار کہ چاہت مری بیتاب نہ ہو واقف اس غم سے مرا حلقۂ احباب نہ ہو تو مجھے ضبط کے صحراؤں میں کیوں رولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے یہ بھی کیا بات کہ چھپ چھپ کے تجھے پیار ...
روشنی ڈوب گئی چاند نے منہ ڈھانپ لیا اب کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی مجھ کو میرے احساس میں کہرام مچا ہے لیکن کوئی آواز سنائی نہیں دیتی مجھ کو رات کے ہاتھ نے کرنوں کا گلا گھونٹ دیا جیسے ہو جائے زمیں بوس شوالہ کوئی یہ گھٹا ٹوپ اندھیرا یہ گھنا سناٹا اب کوئی گیت ہے باقی نہ اجالا ...
مرے رہبر یہ کب تجھ سے کہا ہے کہ منزل تو مری نزدیک کر دے ولی اس دور کا مانوں گا تجھ کو جو رکشاؤں کے میٹر ٹھیک کر دے
کبھی سارے کبھی گاما کبھی پادھا کبھی نیسا مسالہ جان کر اس نے سدا ہر گیت کو پیسا کبھی اس نے ملا دیکھا جو مولی کو چقندر سے تو لایا دور کی کوڑی یہ سرگم کے سمندر سے بنائی جو بھی طرز اس نے وہ فن کی جان ہوتی تھی کہ اس میں اونٹ کی گردن سے لمبی تان ہوتی تھی نہیں تھا چور لیکن کوئی تہمت آ ...
اے پولس بیٹھ جا وہاں جا کر سارا فتنہ جہاں سے اٹھتا ہے چرس کی بو تجھے بتا دے گی ''یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے''