قومی زبان

نظم

میری دنیا اتنی چھوٹی ہے کہ اگر پیر پھیلاؤں تو میرے پیر افق سے باہر چلے جائیں بہت کوشش کے باوجود مجھے وسعت نہ مل سکی میں سو گیا خوابوں نے میرے افق دور دور تک پھیلا دیے آسمان کو بہت اونچا اور زمین کو بہت کشادہ کر دیا جب میری آنکھ کھلی میری ٹانگیں کٹی ہوئی تھیں

مزید پڑھیے

یہ سب تو

میرا کوئی نام نہیں نہ کوئی وطن نہ مذہب نہ باپ نہ ماں ہے کوئی یوں میرا ہونا بہتوں کے نزدیک مشکوک ہو گیا پھر ہر طرف سے تھو تھو ہونے لگی ماورا سے گھسیٹتے پھرو اس کی لاش ایک ساتھ کئی آوازیں بلند ہوئیں کئی مٹھیاں کھنچیں لاٹھیاں چلیں تلواریں سونتی گئیں بندوقیں داغی گئیں پر ساری ...

مزید پڑھیے

نظم

کوئی سخت پھل کاٹتے ہوئے اس نے اپنے خواب میں اپنی انگلی کاٹ لی جسم سے علیحدہ ہو جانے والی انگلی نے ریت پر لکیریں بنانا شروع کر دیں کچھ ادھورے نقوش ابھارے پھر وہ ایک لخت بھڑک اٹھی سبز سرخ اور دودھیا روشنی نکالنے کے بعد یہ انگلی راکھ میں تبدیل ہو گئی راکھ سے پھوٹنے لگا ایک ننھا سا ...

مزید پڑھیے

گاتا ہوا پتھر

دریا کچھ نہیں اس کے جل کی مٹھاس کچھ نہیں اس کی مچھلیاں اور اس کا بپھراؤ کچھ نہیں میں جب ایک گاتا ہوا پتھر اس میں پھینکتا ہوں تو دریا ایک گیت بن جاتا ہے جو اپنے اتار چڑھاؤ اور بپھراؤ میں زندگی سے کم پر شور نہیں اور زندگی کا یہی شور دریا ہے یہی مچھلی یہی مچھیرا یہی میٹھا جل اور یہی ...

مزید پڑھیے

نیا فریم

سفید کاغذ پیلا پڑ چکا ہے اور عبارت دھندلی ہو گئی ہے جلد ادھڑ چکی ہے اسے لکھنے والا مر گیا ہے آثار قدیمہ کے ماہرین اور زبانوں کے محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں یہ کتاب کسی مردہ زبان میں لکھی گئی ہے جو اب زمین کے کسی خطے میں بولی یا سمجھتی نہیں جاتی رات کے کسی پہر آثار قدیمہ کے ایک ...

مزید پڑھیے

اجازت

وہ کہتے ہیں میں کبھی زندہ نہیں تھا اس لیے نہ وہ میری ہنسی کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں نہ آنسوؤں کے بارے میں یا یہ کہ جب میں چلتا تھا تو میرے پاؤں زمیں پر ٹھیک طرح سے پڑتے بھی تھے یا نہیں انہوں نے ہمیشہ مجھے بے جان ہی پایا ایسے کہ میری نبض رکی ہوئی تھی دل ساکت اور جسم سیاہ پڑ چکا ...

مزید پڑھیے

دستانے

میں چیختا ہوں میں نے آج تک کسی چیز کو نہیں چھوا نہ کسی آواز کو نہ دیوار کو نہ تمہارے بدن کو میں تو زندگی بھر اپنے ہاتھوں سے دستانے نہیں اتار سکا

مزید پڑھیے

جب تیز بھوک لگی ہو

جب تیز بھوک لگی ہو میں اپنے جسم سے کھیلنا شروع کر دیتا ہوں بہت سادہ سا کھیل ہے یہ اس کھیل میں ہمارا دل بڑی آسانی سے ایک پھولی ہوئی چپاتی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور ہمارا جسم نوکیلے دانتوں کی ایک قطار میں شاید آپ کبھی اس تجربے سے نہیں گزرے شاید کبھی آپ کی آنتیں اینٹھ کر دوہری نہیں ...

مزید پڑھیے

چاقو کا دستہ

میں ابھی چھوٹا تھا کسی نے میرے ہاتھ میں چاقو تھما دیا میں نے اپنی عمر کی لکیر کو چھ جگہ سے کاٹ ڈالا اور محبت کی لکیر چاقو کی نوک سے کھرچ دی چاقو کا دستہ مجھے کچھ بے ہنگم سا محسوس ہوا اسے میں نے ہتھوڑے کی ضرب سے چاقو سے علاحدہ کر دیا ذرا سی دھار لگانے کے بعد اب اسے دونوں طرف سے ...

مزید پڑھیے

چیونٹیاں

چیونٹیاں زمین پر کتنے کوس چلتی ہوں گی اور کتنی ہمارے پیروں تلے آ کر مسل جاتی ہوں گی اس کا شمار نہیں لیکن جب یہ ہمارے بدن پر چلتی ہیں تو ہم انہیں گن سکتے ہیں ان کی مسافت کا اندازہ لگا سکتے ہیں تم اپنے بدن پر کاٹتی چیونٹی کو کیسے الگ کرتے ہو یہ چیونٹی بتا سکتی ہے یا اس کے ٹوٹے ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1400 سے 6203