قومی زبان

استاد مر گئے

بیٹھا ہوا تھا گھر میں کہ دستک کسی نے دی دیکھا لنگوٹ باندھے ہوئے موت ہے کھڑی کھولے ہوئے ہے منہ کو کسی غار کی طرح بکھرے ہوئے ہیں بال شب تار کی طرح چنگل میں ہیں پھنسے ہوئے یاران تیز رو جیبوں سے جھانکتے ہیں اسیران نو بہ نو کپڑے کے تھان سے بڑی ہاتھوں میں نان ہے دانتوں تلے دبی ہوئی ...

مزید پڑھیے

دیوانگئ عشق پہ الزام کچھ بھی ہو

دیوانگئ عشق پہ الزام کچھ بھی ہو دل دے دیا ہے آپ کو انجام کچھ بھی ہو دل کو یقیں ہے جذبۂ دیدار کی قسم وہ آئے گا ضرور سر بام کچھ بھی ہو آندھی کی زد پہ رکھ تو دیا ہے چراغ دل روشن رہے کہ گل ہو سر شام کچھ بھی ہو دل کو تو اعتماد ہے ساقی کی ذات پر اب زہر دے کہ وہ مئے گلفام کچھ بھی ہو ساغرؔ ...

مزید پڑھیے

کہوں تو کیا میں کہوں پیاری پیاری آنکھوں کو

کہوں تو کیا میں کہوں پیاری پیاری آنکھوں کو سبو کہوں کہ صراحی تمہاری آنکھوں کو کچھ ایسا چھایا ہے دل پر مرے غبار الم گلوں کے سائے بھی لگتے ہیں بھاری آنکھوں کو جھلک رہے ہیں وہ پلکوں پہ آنسوؤں کی طرح وہ غم جو تم نے دئیے ہیں ہماری آنکھوں کو جھکیں جو پلکیں تو رک جائیں دھڑکنیں دل ...

مزید پڑھیے

گلے پڑا مہمان

اک روز گھر جمے ہوئے مہمان سے کہا رسوا ہوا کہ آپ کی خدمت نہ کر سکا کہنے لگے کہ ایسا نہیں ہے جناب من بھابھی مجھے کھلاتی رہیں مرغ اور مٹن افراد خانہ آپ کے سب بے گزند ہیں بیٹے بھی تینوں آپ کے مجھ کو پسند ہیں میں نے کہا کہ پھر بھی مرے دل کو ہے یقیں خاطر نہ کوئی کر سکا میں آپ کے تئیں زحمت ...

مزید پڑھیے

لڑکی کی دعا

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری زندگی بھر کرے عاشق مرا سیوا میری صبح سے شام تلک ہو کے مگن گاتا رہے میرا عاشق مری الفت میں بھجن گاتا رہے یوں میں چمکوں کہ زمانے میں اندھیرا ہو جائے کوئی لنگڑا کوئی اندھا کوئی لولا ہو جائے میرے جلووں کو عطا کر دے وہ قدرت یارب میری نفرت کو بھی سمجھے وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1378 سے 6203