قومی زبان

پس روشنی

بڑھ رہے ہیں ہر طرف عزم و عمل کے کارواں مرغ انڈے دے رہے ہیں اور اذانیں مرغیاں میں کہوں دور ترقی یا اسے دور خزاں آدمی بے مول ہے اور پارٹس باڈی کے گراں جو مکمل آدمی ہے بے سروسامان ہے گر یوں ہی ہر انگ کے پیسے بڑھیں گے بے شمار کوئی بھیجا چور ہوگا کوئی غنڈہ آنکھ مار شاہراہوں پر لگیں گے ...

مزید پڑھیے

دم

ساغرؔ کہاں سے آ گئی دل میں دموں کی بات دم کے بغیر آدمی لگتا ہے واہیات ملتے ہیں اہل فن کو یہیں سے محرکات ہوتی تھی دم ثبوت میں اس کے محاورات استاد کہہ رہے تھے چھرا دل پہ چل گیا دم پر ہماری پاؤں وہ رکھ کر نکل گیا ہوتی تھی اک زمانے میں ہر آدمی کے دم بے امتیاز مذہب و ملت سبھی کے دم پھولے ...

مزید پڑھیے

نوادرات کی دوکان

بولا دوکان دار کہ سرکار دیکھیے مغلوں کی آن بان کے آثار دیکھیے اکبرؔ کی تیغ اور سپر ہے سلیمؔ کی ہر چیز دستیاب ہے عہد قدیم کی غالبؔ کا جام میرؔ کی ٹوپی کا بانکپن مومنؔ کا لوٹا حضرت سوداؔ کا پیرہن ایڑی گلاب کی ہے تو پنجا کنول کا ہے جوتا مری دوکان پہ حضرت محل کا ہے چٹکی میں میری دانت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1377 سے 6203