قومی زبان

موت جو میرا مقدر تھی

بہت میں نے اس مختصر زندگی میں عزیز و اقارب کے صدمات دیکھے بہت دوستوں کی جواں میتوں کو سسکتے ہوئے میں نے کاندھا دیا ہے بہت مہربانوں کی مجروح لاشوں کے تابوت مٹی کے منہ میں اتارے مگر میری بے رحم منحوس آنکھیں یہ دل دوز منظر سمیٹے ہوئے پھر نئے زخم تک مندمل ہو گئیں ہر دفعہ اپنے اشکوں ...

مزید پڑھیے

کتبوں کے متروک الفاظ کہاں جائیں

دیکھتے رہنا کالی رات اور تیز ہوا کے چہروں سے اک نہ اک دن پیڑ کا سایہ ڈر جائے گا یہ جو اپنے آگے پیچھے سات سمندر رہتے ہیں جانتے ہو نا ان کا ایک ہی مقصد ہے ان کے ہاتھوں پر یہ خشکی یوں ہی باقی رہ جائے سات سمندر کالی رات اور تیز ہوا موسم کے ہاتھوں پہ نوحہ لکھتے ہیں بحری قزاقوں کے دل میں ...

مزید پڑھیے

بچپن کی یادوں کو بھلائے ایک زمانہ بیت گیا

بچپن کی یادوں کو بھلائے ایک زمانہ بیت گیا ہم کو دیس سے باہر آئے ایک زمانہ بیت گیا گلیوں اور بازاروں میں میں مارا مارا پھرتا ہوں خوشیوں کی اک بزم سجائے ایک زمانہ بیت گیا میری طرف بھی چشم کرم احباب کبھی فرمائیں گے ان سے یہ امید لگائے ایک زمانہ بیت گیا کس کو خبر کب پوری ہوگی ...

مزید پڑھیے

اندھیرے سے زیادہ روشنی تکلیف دیتی ہے

اندھیرے سے زیادہ روشنی تکلیف دیتی ہے زمانے کو مری زندہ دلی تکلیف دیتی ہے بہت اچھا تھا جب نا آشنا تھا حسن دنیا سے مجھے اب ہوشمندی آگہی تکلیف دیتی ہے وہ اکثر چھیڑ دیتے ہیں مرے دیرینہ زخموں کو نہ جانے کیوں انہیں میری خوشی تکلیف دیتی ہے جو اپنے سینوں میں دل کی بہ جائے سنگ رکھتے ...

مزید پڑھیے

درد کی صورت میں وہ عمدہ سا تحفہ دے گیا

درد کی صورت میں وہ عمدہ سا تحفہ دے گیا بے وفا دنیا میں جینے کا سہارا دے گیا جسم ہے آزاد لیکن دل اسیر عشق ہے کچھ حقیقت دے گیا وہ کچھ فسانہ دے گیا ساری دنیا ایک دن یوں ہی فنا ہو جائے گی جلتے جلتے ایک پروانہ اشارہ دے گیا اپنے مستقبل کو روشن کرنے نکلے تھے مگر شہر کا سورج تو آنکھوں کو ...

مزید پڑھیے

کہنا ہو جو بھی صاف کہو بے جھجک کہو (ردیف .. ی)

کہنا ہو جو بھی صاف کہو بے جھجک کہو اپنوں سے کوئی بات چھپاتا نہیں کوئی شاید کسی عدو نے ترے کان بھر دیے ورنہ نگاہ یوں تو چراتا نہیں کوئی جس میں ذرا بھی کبر کا ہوتا ہے شائبہ اس کو نگاہ میں کبھی لاتا نہیں کوئی ان کو ضرور مجھ سے لگاوٹ ہے کچھ نہ کچھ یوں حال دل کسی کو سناتا نہیں کوئی

مزید پڑھیے

داستاں کیا تھی اور کیا بنا دی گئی

داستاں کیا تھی اور کیا بنا دی گئی کچھ گھٹا دی گئی کچھ بڑھا دی گئی کر کے تجدید عہد وفا دل نشیں قید کی اور مدت بڑھا دی گئی جاں ہتھیلی پہ لے کر پہنچ ہی گئے اہل دل کو جہاں بھی صدا دی گئی ربط باہم وہ پہلے سا باقی نہیں کیسی صورت جہاں کی بنا دی گئی چشم حق بیں میں دنیا یہ کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

اصل میں موت تو خوشیوں کی گھڑی ہے یارو

اصل میں موت تو خوشیوں کی گھڑی ہے یارو زندگی کرب ہے اشکوں کی جھڑی ہے یارو کوئی روتا ہی نہیں غیر کی بربادی پر ہر بشر کو یہاں اپنی ہی پڑی ہے یارو وقت آنے پہ ہر اک شخص دغا دیتا ہے ایسا لگتا ہے قیامت کی گھڑی ہے یارو اپنے انجام سے غافل نہ رہو فکر کرو موت فرمان لیے سر پہ کھڑی ہے ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی مجھ کو بے قرار نہ کر

ہر گھڑی مجھ کو بے قرار نہ کر زندگی میری سوگوار نہ کر جس کے ساحل کا کچھ پتا ہی نہیں ایسی کشتی کو اختیار نہ کر بے خودی میری بے خودی نہ رہے اتنا احسان غم گسار نہ کر اس قدر مجھ پہ التفات و کرم میرے محسن تو شرمسار نہ کر پاک کر لے ہوس سے دل پہلے کون کہتا ہے تجھ کو پیار نہ کر اپنے وعدے ...

مزید پڑھیے

آج بھی ابر مسرت آنسوؤں میں ڈھل گیا

آج بھی ابر مسرت آنسوؤں میں ڈھل گیا پھر بھری برسات میں دل کا نشیمن جل گیا جستجوئے شب بجھاتی تو میاں کچھ خیر تھی روشنی کا کارواں چشم سحر میں کھل گیا صاحب مرہم تری جب سے ہوئی چشم کرم ایک ذرا سا آبلہ ناسور بن کر پھل گیا کیا خبر تھی جھالا باری مہرباں ہوگی ابھی پیڑ سمجھا تھا یہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1371 سے 6203