قومی زبان

کہنا یہ تھا

جانے کہاں ہو دفتر کے مردہ ماحول میں دوغلے لوگوں کے جھرمٹ میں شہر کی باہوں کے ظالم حلقے سے باہر چوڑی شہ راہوں کے تپتے سینے پر چپ چاپ رواں ہو یا کسی تہہ خانے کی ٹھنڈک کے مہماں ہو موبائل کا صاف جواب ہے آپ کے مطلوبہ نمبر سے کوئی جواب نہیں ملتا ہے کہنا یہ تھا یہ کمپیوٹر آج مری خواری پر ...

مزید پڑھیے

ری سائیکلبن

لفظ واپس نہیں ہوا کرتے تلخیوں میں گھلے ہوئے لہجے ظرف کے ہاتھ کیا ہی ماہر ہوں پھول بن کر نہیں کھلا کرتے حذف کرنے کا آسرا لے کر کوئی تحریر لکھ نہیں دینا بھول جانے کی التجا لے کر مت کہو کوئی حرف نا بینا کل جو خالی گیا تھا وار کوئی کارگر آج ہو بھی سکتا ہے بھولی بسری گواہیوں کا ...

مزید پڑھیے

مبارک باد

زمانے! تہنیت تجھ کو کہ پھر میدان مارا ہے مگر اب کے جو ہارا ہے بڑا ہی سخت جاں نکلا مقابل تیرے آنے کو بہت تیار پھرتا تھا لیے ہتھیار پھرتا تھا وفا کے، ظرف کے آنکھوں میں روشن خوش گمانی کے لبوں پر کھیلتی خواہش، سخن میں ناچتی اک حوصلہ مندی رگوں میں دوڑتا سیال ارادہ تھا بدن پر خواب کی ...

مزید پڑھیے

پنکچویشن

تمہیں بھیجوں کتاب زندگی اپنی ذرا ترتیب دے دینا جہاں پر بات مبہم ہے جسے تفصیل لازم ہے وہاں پر حاشیہ دینا کہیں گر دو مکمل لفظ اکٹھے ہو گئے ہوں تو یہ قربت غیر فطری ہے ضروری ہے مناسب فاصلہ دینا جہاں پر ختم ہوتا ہو کوئی درد آشنا جملہ فراموشی کا نقطہ ثبت کر دینا وہیں پر ختم کر دینا نئے ...

مزید پڑھیے

اپنا گھر

گھر کی ساری چیزوں کو بے رخی سے یوں دیکھا جیسے اک تعلق ہو پھر نہ جانے کیا سوچا احتیاط سے ٹانگے پائنچے ارادوں کے اشتیاق سے الٹی آستین ہمت کی ایک ایک گوشے سے اوڑھنی کے پلو نے گرد غیریت جھاڑی تھام کر ہر اک شے کو اپنی آنکھ سے دیکھا اپنی سوچ سے چھو کر اپنے ہاتھ سے رکھا سارا گھر چمک ...

مزید پڑھیے

ویڈیو گیم

بٹن آغاز کا دبتے ہی میں نے راستوں میں جا بہ جا بکھری ہوئی قوت ہر اک انداز سے خود میں انڈیلی تھی کتابیں اور سکھیاں خواب اور منظر صحیفوں کے سنہرے حرف سب جھولی میں ڈالے تھے خبر تھی جس مہم جوئی پہ نکلی ہوں یہاں چلنا مسلسل راہ دلدل اور توانائی مرا واحد حوالہ ہے بڑی مدت ہوئی چلتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

دل کی آخری تہہ میں

بے کلی نہ بے زاری نے کوئی اداسی ہے دیکھنے کو لہجے میں خفگیاں نہیں ملتیں ایک چپ سی ہے لیکن گفتگو کے زمزم کو روک روک دیتی ہے ہر ادائے بے پروا تھام تھام لیتی ہے بولنے سے پہلے جو سوچنے کو کہتی ہے ہر سخن مکمل ہے پھر بھی حرف کہتے ہیں بات نا مکمل ہے قربتوں کی بارش میں اک گریز کا لمحہ اب ...

مزید پڑھیے

رہنے دو

جو لمحے بیت گئے جاناں کیوں کر وہ لوٹ کے آئیں گے وہ دل جو ٹوٹ گئے ہمدم آخر کیسے جڑ پائیں گے اب ساری کوشش رہنے دو اور مختاری کے صحرا میں اک ہجر کی بندش رہنے دو جو نقش ہوا کے ہاتھ لگے ڈھونڈو تو کہاں تک جاؤ گے جاؤ بھی اگر کیا پاؤ گے بس ایک تمہی تھک جاؤ گے ہاتھوں کی لکیروں کی میرے خوابوں ...

مزید پڑھیے

سر خیال میں جب بھول بھی گئی کہ میں ہوں

سر خیال میں جب بھول بھی گئی کہ میں ہوں اچانک ایک عجب بات یہ سنی کہ میں ہوں تلاش کر کے مجھے لوٹنے کو تھا کوئی مرے وجود کی خوشبو پکار اٹھی کہ میں ہوں کہ تیرگی میں پلی آنکھ کو یقیں آ جائے ذرا بلند ہو آہنگ روشنی کہ میں ہوں وہ خالی جان کے گھر لوٹنے کو آیا تھا مرے عدو کو خبر آج ہو گئی ...

مزید پڑھیے

کبھی برسوں کا سمٹاؤ بہت اچھا لگا ہے

کبھی برسوں کا سمٹاؤ بہت اچھا لگا ہے کبھی لمحے کا پھیلاؤ بہت اچھا لگا ہے ستایا ایک عرصہ طبع کی جولانیوں نے تو اب جذبوں کا ٹھہراؤ بہت اچھا لگا ہے لگایا ہے فراموشی کا مرہم سب پہ لیکن گئے وقتوں کا اک گھاؤ بہت اچھا لگا ہے سکوں پرور جزیروں تک مجھے پہنچانے والا تلاطم سا پس ناؤ بہت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1331 سے 6203