پہیلی
ایک سمندر اس میں رکھے چند جزیرے بیچ میں جن کے دوری کی نیلاہٹ رقصاں ربط باہم بس پانی کی اندھی لہریں یا طوفانی ہوا کے جھکڑ سنا ہے ایک جزیرے پر کوہ جودی ہے ہم اولاد نوح تو ہیں پر ناؤ بنانے کا سارا فن بھول چکے ہیں
ایک سمندر اس میں رکھے چند جزیرے بیچ میں جن کے دوری کی نیلاہٹ رقصاں ربط باہم بس پانی کی اندھی لہریں یا طوفانی ہوا کے جھکڑ سنا ہے ایک جزیرے پر کوہ جودی ہے ہم اولاد نوح تو ہیں پر ناؤ بنانے کا سارا فن بھول چکے ہیں
مجھے کچھ دیر سونا ہے زمانے چیختے ہیں میرے کانوں میں خموشی کس طرح ہوگی مری آنکھوں میں سورج آ بسے ہیں رات کیسے ہو
مجھے بتا تو سہی اے حبیب کم عمری وہی ہیں لب وہی گفتار اور وہی انداز پس وجود وہ کیا تھا جو اب نہیں ہوتا مری نظر میں کوئی ایسی روشنی تھی بھلا جو بجلیوں سی اتر کر ترے سراپے میں تجھے ہجوم دلآرام سے سوا کرتی وہی ادا وہی انداز خد و خال مگر لگاؤ دل کا یوں ہی بے سبب نہیں ہوتا اب اس مقام پہ ہے ...
بدن اور ذہن مل بیٹھے ہیں پھر سے یہ دل پھر سے اکیلا ہو رہا ہے شناسائی زیادہ ہو رہی ہے اور اندر کوئی تنہا ہو رہا ہے
ایک تعلق جان کے ملتے ہیں ورنہ اپنی خاطر جینا سہل تو ہوتا ہے رفتہ رفتہ ہو جائے گی آسانی ہر میدان میں پہلا پہل تو ہوتا ہے
اس کے آنے کی دعا ہوتی ہے دن بھر لیکن در پہ دستک مرے دیتا ہے اثر شام کے بعد سارا دن گھر مرے رہتی ہیں کڑی دوپہریں ہاں مری شام بھی آتی ہے مگر شام کے بعد
تو نے پوچھا ہے مرے دوست تو میں سوچتی ہوں وہ جو اک چیز ہے دنیا جسے غم کہتی ہے مجھے تسلیم، مرا اس سے علاقہ نہ رہا زندگی گویا کوئی سیج رہی پھولوں کی پھر وہ کیا ہے کہ جو کانٹوں سی چبھا کرتی ہے میں نے دیکھی ہیں وہ بے مہر نگاہیں اے دوست جن کی بے گانگی دل چیر دیا کرتی ہے میں نے گھومے ہیں وہ ...
ایک انداز سے دیکھوں تو ہمایوں تم ہو اور اک طرز کی بابر میں ہوں روز و شب درد کے پھیروں میں رہیں بار غم خود پہ اٹھانے کی دعاؤں کے سوا مستجابی کا کوئی ڈھنگ نہ ہو تندرستی بھی کوئی طاق عدد ہو جیسے دو پہ تقسیم نہیں ہو سکتی میرے آزار میں جتنا بھی اضافہ ہوگا اس قدر تم کو شفا پہنچے گی
ہنگامۂ روز و شب سے ہٹ کر کچھ دیر کو ذات سے نکل کر احساس ملے جو ماورائی بے ساختہ دل یہ چاہتا ہے وہ ہاتھ جو لکھ رہا ہے سب کچھ تقدیر کا کھول کر نوشتہ جب اپنے ہی دھیان میں مگن ہو چپکے سے اٹھا کے ایڑیوں کو ہولے سے ورق الٹ کے دیکھوں اس وقت میں جو ہے آنے والا جاں لیوا مسافتوں کے رستوں پر ...
جب اداسی در و دیوار پہ چھا جاتی ہے دل کے تاروں میں کہیں سات سروں کی مالا ایک خاموش چھناکے سے بکھر جاتی ہے جب میں حالات کے بخشے ہوئے مایوس اندھیروں میں کہیں دور بھٹک جاتی ہوں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دینے لگتا دل کسی زرد ستارے کا سوالی بن کر گھپ اندھیرے میں کسی راہ کی ناکام طلب ...