عقائد وہم ہیں مذہب خیال خام ہے ساقی
عقائد وہم ہیں مذہب خیال خام ہے ساقی ازل سے ذہن انساں بستۂ اوہام ہے ساقی حقیقت آشنائی اصل میں گم کردہ راہی ہے عروس آگہی پروردۂ ابہام ہے ساقی مبارک ہو ضعیفی کو خرد کی فلسفہ رانی جوانی بے نیاز عبرت انجام ہے ساقی ہوس ہوگی اسیر حلقۂ نیک و بد عالم محبت ماورائے فکر ننگ و نام ہے ...