قومی زبان

ہر چند مری قوت گفتار ہے محبوس (ردیف .. ی)

ہر چند مری قوت گفتار ہے محبوس خاموش مگر طبع خود آرا نہیں ہوتی معمورۂ احساس میں ہے حشر سا برپا انسان کی تذلیل گوارا نہیں ہوتی نالاں ہوں میں بیداریٔ احساس کے ہاتھوں دنیا مرے افکار کی دنیا نہیں ہوتی بیگانہ صفت جادۂ منزل سے گزر جا ہر چیز سزاوار نظارہ نہیں ہوتی فطرت کی مشیت بھی ...

مزید پڑھیے

دیکھا تو تھا یوں ہی کسی غفلت شعار نے

دیکھا تو تھا یوں ہی کسی غفلت شعار نے دیوانہ کر دیا دل بے اختیار نے اے آرزو کے دھندلے خرابو جواب دو پھر کس کی یاد آئی تھی مجھ کو پکارنے تجھ کو خبر نہیں مگر اک سادہ لوح کو برباد کر دیا ترے دو دن کے پیار نے میں اور تم سے ترک محبت کی آرزو دیوانہ کر دیا ہے غم روزگار نے اب اے دل تباہ ...

مزید پڑھیے

میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا

میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا تیرا وعدہ تو نہیں ہوں جو بدل جاؤں گا سوز بھر دو مرے سپنے میں غم الفت کا میں کوئی موم نہیں ہوں جو پگھل جاؤں گا درد کہتا ہے یہ گھبرا کے شب فرقت میں آہ بن کر ترے پہلو سے نکل جاؤں گا مجھ کو سمجھاؤ نہ ساحرؔ میں اک دن خود ہی ٹھوکریں کھا کے محبت میں ...

مزید پڑھیے

اب کوئی گلشن نہ اجڑے اب وطن آزاد ہے

اب کوئی گلشن نہ اجڑے اب وطن آزاد ہے روح گنگا کی ہمالہ کا بدن آزاد ہے کھیتیاں سونا اگائیں وادیاں موتی لٹائیں آج گوتم کی زمیں تلسی کا بن آزاد ہے مندروں میں سنکھ باجے مسجدوں میں ہو اذاں شیخ کا دھرم اور دین برہمن آزاد ہے لوٹ کیسی بھی ہو اب اس دیش میں رہنے نہ پائے آج سب کے واسطے ...

مزید پڑھیے

خوبصورت موڑ

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے ...

مزید پڑھیے

آج

ساتھیو! میں نے برسوں تمہارے لیے چاند تاروں بہاروں کے سپنے بنے حسن اور عشق کے گیت گاتا رہا آرزوؤں کے ایواں سجاتا رہا میں تمہارا مغنی تمہارے لیے جب بھی آیا نئے گیت لاتا رہا آج لیکن مرے دامن چاک میں گرد راہ سفر کے سوا کچھ نہیں میرے بربط کے سینے میں نغموں کا دم گھٹ گیا تانیں چیخوں کے ...

مزید پڑھیے

رد عمل

چند کلیاں نشاط کی چن کر مدتوں محو یاس رہتا ہوں تیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

مزید پڑھیے

بہت گھٹن ہے کوئی صورت بیاں نکلے

بہت گھٹن ہے کوئی صورت بیاں نکلے اگر صدا نہ اٹھے کم سے کم فغاں نکلے فقیر شہر کے تن پر لباس باقی ہے امیر شہر کے ارماں ابھی کہاں نکلے حقیقتیں ہیں سلامت تو خواب بہتیرے ملال کیوں ہو کہ کچھ خواب رائیگاں نکلے ادھر بھی خاک اڑی ہے ادھر بھی خاک اڑی جہاں جہاں سے بہاروں کے کارواں ...

مزید پڑھیے

ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیں

ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیں میں منتظر ہوں مگر تیرا انتظار نہیں ہمیں سے رنگ گلستاں ہمیں سے رنگ بہار ہمیں کو نظم گلستاں پہ اختیار نہیں ابھی نہ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب ابھی حیات کا ماحول خوش گوار نہیں تمہارے عہد وفا کو میں عہد کیا سمجھوں مجھے خود اپنی محبت پہ اعتبار نہیں نہ ...

مزید پڑھیے

جرم الفت پہ ہمیں لوگ سزا دیتے ہیں

جرم الفت پہ ہمیں لوگ سزا دیتے ہیں کیسے نادان ہیں شعلوں کو ہوا دیتے ہیں ہم سے دیوانے کہیں ترک وفا کرتے ہیں جان جائے کہ رہے بات نبھا دیتے ہیں آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں ہم محبت سے محبت کا صلہ دیتے ہیں تخت کیا چیز ہے اور لعل و جواہر کیا ہیں عشق والے تو خدائی بھی لٹا دیتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1324 سے 6203