نکل کے ذہن سے میرے زباں پہ آیا کب
نکل کے ذہن سے میرے زباں پہ آیا کب وہ دل کا نغمہ سہی میں نے گنگنایا کب گئی جو دھوپ تو اب چاندنی کی باری ہے کہ ساتھ چھوڑے گا میرا یہ کالا سایہ کب نہ جانے ہو گیا دنیا میں تیرے جیسا کیوں سبق حیات کا تو نے مجھے پڑھایا کب تمام شہر تو خوشبو سے اس کی واقف ہے کوئی تو مجھ کو بتاتا یہاں وہ ...