ہر لمحہ زندگی کے پسینہ سے تنگ ہوں
ہر لمحہ زندگی کے پسینہ سے تنگ ہوں میں بھی کسی قمیض کے کالر کا رنگ ہوں مہرہ سیاستوں کا مرا نام آدمی میرا وجود کیا ہے خلاؤں کی جنگ ہوں رشتے گزر رہے ہیں لیے دن میں بتیاں میں آدھونک صدی کی اندھیری سرنگ ہوں نکلا ہوں اک ندی سا سمندر کو ڈھونڈھنے کچھ دور کشتیوں کے ابھی سنگ سنگ ...