شاعری

شور تھمنے کے بعد

اب شور تھما تو میں نے جانا آدھی کے قریب رو چکی ہے شب گرد کو اشک دھو چکی ہے چادر کالی خلا کی مجھ پر بھاری ہے مثل موت شہپر ہے سانس کو رکنے کا بہانہ تسبیح سے ٹوٹتا ہے دانہ میں نقطہ حقیر آسمانی بے فصل ہے بے زماں ہے تو بھی کہتی ہے یہ فلسفہ طرازی لیکن یہ سنسناتی وسعت اتنی بے حرف و بے ...

مزید پڑھیے

شیشۂ ساعت کا غبار

میں زندہ تھا مگر میں تیرے سرخ نیلگوں سفید بلبلے میں قید تھا ہوا وسیع تھی مگر حدود سے رہا نہ تھی نہ میرے پر شکستہ تھے نہ میری سانس کم تھا بلبلے کی کائنات میں مرا ہی دم قدم مگر مری اڑان سرخ نیلگوں سفید مقبرے کے آخری خطوط سے سوا نہ تھی میں حال کے اتھاہ پانیوں میں غرق یا گذشتہ وقت کے ...

مزید پڑھیے

آخری تماشائی

اٹھو کہ وقت ختم ہو گیا تماش بینوں میں تم آخری ہی رہ گئے ہو اب چلو یہاں سے آسمان تک تمام شہر چادریں لپیٹ لی گئیں زمین سنگ ریزہ سخت دانت سی سفید ملگجی دکھائی دے رہی ہے ہر طرف تمہیں جہاں گمان سبزہ تھا وہ جھلک رہی ہے کہنہ کاغذوں کی برف وہ جو چلے گئے انہیں تو اختتامیے کے سب سیاہ ...

مزید پڑھیے

بیت عنکبوت

یہ عورت اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھانسی پر چڑھایا جائے اسے یونان کے اک مشہور ڈاکو کے بستر کی ضرورت ہے (وہ اپنے سب شکاروں کا قد و قامت اسی بستر کے پیمانے کی نسبت سے گھٹاتا کاٹتا یا کھینچ کا جبراً بڑھاتا تھا) خطوط لب تو دیکھو! کس طرح سمٹے ہوئے ہیں، سنگ دل عامیانہ ...

مزید پڑھیے

کوئی بات نہیں

دانت بڑے ہوں تو بھی کوئی بات نہیں کان کھڑے ہوں تو بھی کوئی بات نہیں ڈانٹ پڑی ہو تو بھی کوئی بات نہیں دھوپ کڑی ہو تو بھی کوئی بات نہیں ادھم بڑا ہو تو بھی کوئی بات نہیں کوئی لڑا ہو تو بھی کوئی بات نہیں بچوں کا گھر میں آنے دو دھومیں ان کو مچانے دو

مزید پڑھیے

ہر جلوۂ حسن بے وطن ہے

ہر جلوۂ حسن بے وطن ہے شاید کہ یہ محفل سخن ہے اک وجد میں جسم و جان فن کار ہے رقص کہ روح کا بدن ہے ہر فکر مثال چہرہ روشن ہر شعر میں بوئے پیرہن ہے کافور کی شمعیں جل اٹھی ہیں ابلاغ خیال کا کفن ہے ہر ساز کی آرزو تکلم ہر ساز سکوت پیرہن ہے

مزید پڑھیے

محفل کا نور مرجع اغیار کون ہے

محفل کا نور مرجع اغیار کون ہے ہم میں ہلاک طالع بیدار کون ہے ہم اپنے سائے سے تو بھڑک کر الف ہوئے دیکھا نہیں مگر پس دیوار کون ہے ہر لمحہ کی کمر پہ ہے اک محمل سکوت لوگو بتاؤ قاتل گفتار کون ہے گھر گھر کھلے ہیں ناز سے سورج مکھی کے پھول سورج کو پھر بھی مانع دیدار کون ہے پتھر اٹھا کے ...

مزید پڑھیے

آب و گیا سے بے نیاز سرد جبین کوہ پر (ردیف .. ا)

آب و گیا سے بے نیاز سرد جبین کوہ پر گرمی روئے یار کا عکس بھی رائیگاں گیا سطح پہ تازہ پھول ہیں کون سمجھ سکا یہ راز آگ کدھر کدھر لگی شعلہ کہاں کہاں گیا راز خرد ہو کچھ بھی اب راز جنوں تو یہ ہے بس آنکھ تھی بے بصر رہی تیر تھا بے کماں گیا عمر رواں کی منزلیں طول طویل مختصر آپ بھی ہم سفر ...

مزید پڑھیے

جو اترا پھر نہ ابھرا کہہ رہا ہے

جو اترا پھر نہ ابھرا کہہ رہا ہے یہ پانی مدتوں سے بہہ رہا ہے مرے اندر ہوس کے پتھروں کو کوئی دیوانہ کب سے سہہ رہا ہے تکلف کے کئی پردے تھے پھر بھی مرا تیرا سخن بے تہہ رہا ہے کسی کے اعتماد جان و دل کا محل درجہ بہ درجہ ڈھہ رہا ہے گھروندے پر بدن کے پھولنا کیا کرائے پر تو اس میں رہ رہا ...

مزید پڑھیے

دیکھیے بے بدنی کون کہے گا قاتل ہے

دیکھیے بے بدنی کون کہے گا قاتل ہے سایہ آسا جو پھرے اس کو پکڑنا مشکل ہے رگ ہر لفظ سے رستے ہوئے خوں سے گھبرا کر میں جو خاموش رہا سب نے کہا ''تو جاہل ہے'' تجربہ دل میں رہے تو کھلے آنسو بن بن کر اور کاغذ پہ چھلک جائے تو شمع محفل ہے جو بھری دنیا کی سنگین عجائب نگری میں اپنا سر آپ نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 798 سے 5858