کچھ اشارے وہ سر بزم جو کر جاتے ہیں
کچھ اشارے وہ سر بزم جو کر جاتے ہیں ناوک ناز کلیجے میں اتر جاتے ہیں اہل دل راہ عدم سے بھی گزر جاتے ہیں نام لیوا ترے بے خوف و خطر جاتے ہیں سفر زیست ہوا ختم نہ سوچا لیکن ہم کو جانا ہے کہاں اور کدھر جاتے ہیں نگہ لطف میں ہے عقدہ کشائی مضمر کام بگڑے ہوئے بندوں کے سنور جاتے ہیں قابل ...