شاعری

کچھ اشارے وہ سر بزم جو کر جاتے ہیں

کچھ اشارے وہ سر بزم جو کر جاتے ہیں ناوک ناز کلیجے میں اتر جاتے ہیں اہل دل راہ عدم سے بھی گزر جاتے ہیں نام لیوا ترے بے خوف و خطر جاتے ہیں سفر زیست ہوا ختم نہ سوچا لیکن ہم کو جانا ہے کہاں اور کدھر جاتے ہیں نگہ لطف میں ہے عقدہ کشائی مضمر کام بگڑے ہوئے بندوں کے سنور جاتے ہیں قابل ...

مزید پڑھیے

وہ جھنکار پیدا ہے تار نفس میں

وہ جھنکار پیدا ہے تار نفس میں کہ ہے نغمہ نغمہ مری دسترس میں تصور بہاروں میں ڈوبا ہوا ہے چمن کا مزہ مل رہا ہے قفس میں گلوں میں یہ سرگوشیاں کس لیے ہیں ابھی اور رہنا پڑے گا قفس میں نہ جینا ہے جینا نہ مرنا ہے مرنا نرالی ہیں سب سے محبت کی رسمیں نہ دیکھی کبھی ہم نے گلشن کی صورت ترستے ...

مزید پڑھیے

تری نگاہ نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا

تری نگاہ نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا ہنسا کے پاس بلایا رلا کے چھوڑ دیا حسین جلووں میں گم ہو گئی نظر میری یہ کیا کیا کہ جو پردہ اٹھا کے چھوڑ دیا جنوں میں اب مجھے اپنی خبر نہ غیروں کی یہ غم نے کون سی منزل پہ لا کے چھوڑ دیا جو معرفت کے گلابی نشے سے ہو بھر پور وہ جام تو نے نظر سے پلا کے ...

مزید پڑھیے

وہ رقص کرنے لگیں ہوائیں وہ بدلیوں کا پیام آیا

وہ رقص کرنے لگیں ہوائیں وہ بدلیوں کا پیام آیا یہ کس نے بکھرائیں رخ پہ زلفیں یہ کون بالائے بام آیا مجھے خوشی ہے کہ آج میرا جنوں بھی یوں میرے کام آیا سمجھ کے دیوانۂ محبت تمہارے ہونٹوں پہ نام آیا مجھے صراحی سے کیا غرض ہے میرا نشہ اصل میں الگ ہے ادھر تمہاری نگاہ اٹھی ادھر سرور دوام ...

مزید پڑھیے

ہوتی ہے لبوں پر خاموشی آنکھوں میں محبت ہوتی ہے

ہوتی ہے لبوں پر خاموشی آنکھوں میں محبت ہوتی ہے جب ان سے نگاہیں ملتی ہیں اس وقت یہ حالت ہوتی ہے رینگنئ بزم دنیا میں ایسا بھی زمانہ آتا ہے وہ درد قضا بن جاتا ہے جس درد میں راحت ہوتی ہے یہ تجھ پہ فلک نے ظلم کیا وہ مجھ سے جدا میں ان سے جدا خوشیاں تو مناؤ اہل جہاں برباد محبت ہوتی ...

مزید پڑھیے

غم سے بھیگے ہوئے نغمات کہاں سے لاؤں

غم سے بھیگے ہوئے نغمات کہاں سے لاؤں درد میں ڈوبی ہوئی بات کہاں سے لاؤں جن میں یادوں کو تری جھونک دوں جلنے کے لیے وہ سلگتے ہوئے دن رات کہاں سے لاؤں جو پسند آئے تجھے خون جگر کے بدلے سونے چاندی کی وہ سوغات کہاں سے لاؤں دل بھی تشنہ ہے مری روح بھی تشنہ ہے مگر تیرے جلووں کی وہ برسات ...

مزید پڑھیے

دل دیا ہے ہم نے بھی وہ ماہ کامل دیکھ کر

دل دیا ہے ہم نے بھی وہ ماہ کامل دیکھ کر زرد ہو جاتی ہے جس کو شمع محفل دیکھ کر تیرے عارض پہ یہ نقطہ بھی ہے کتنا انتخاب ہو گیا روشن ترے رخسار کا تل دیکھ کر قتل کرنا بے گناہوں کا کوئی آسان ہے خشک قاتل کا لہو ہے خون بسمل دیکھ کر بلیوں فرط مسرت سے اچھل جاتا ہے دل بحر غم میں دور سے ...

مزید پڑھیے

دم اخیر بھی ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا

دم اخیر بھی ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا جہاں سے اٹھ گئے اہل جہاں سے کچھ نہ کہا چلی جو کشتئ عمر رواں تو چلنے دی رکی تو کشتئ عمر رواں سے کچھ نہ کہا خطائے عشق کی اتنی سزا ہی کافی تھی بدل کے رہ گئے تیور زباں سے کچھ نہ کہا بلا سے خاک ہوا جل کے آشیاں اپنا تڑپ کے رہ گئے برق تپاں سے کچھ نہ ...

مزید پڑھیے

دل کا گلہ فلک کی شکایت یہاں نہیں

دل کا گلہ فلک کی شکایت یہاں نہیں وہ مہرباں نہیں تو کوئی مہرباں نہیں ہم آج تک چھپاتے ہیں یاروں سے راز عشق حالانکہ دشمنوں سے یہ قصہ نہاں نہیں زیبا نہیں ہے دوست سے کرنا معاملہ کچھ ورنہ ناز جان کے بدلے گراں نہیں ہم زمرۂ رقیب میں مل کر وہاں گئے جب شوق رہ نما ہو کوئی پاسباں ...

مزید پڑھیے

دیکھوں تو کہاں تک وہ تلطف نہیں کرتا

دیکھوں تو کہاں تک وہ تلطف نہیں کرتا آرے سے اگر چیرے تو میں اف نہیں کرتا تم دیتے ہو تکلیف مجھے ہوتی ہے راحت سچ جانیے میں اس میں تکلف نہیں کرتا سب باتیں انہیں کی ہیں یہ سچ بولیو قاصد کچھ اپنی طرف سے تو تصرف نہیں کرتا سو خوف کی ہو جائے مگر رند نظرباز دل جلوہ گہ لانشف و شف نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 714 سے 5858