شاعری

رحمان و رحیم ہے وہ رب عباد

رحمان و رحیم ہے وہ رب عباد دیتا نہیں اس کا ہے یہ محکم ارشاد ''تکلیف کسی کو اس کی طاقت سے زیاد!'' کیا جانیں ''زیاد'' سے ہے کیا اس کی مراد

مزید پڑھیے

حاصل عمر رواں وہ ایک پل

حاصل عمر رواں وہ ایک پل جس میں تھا پہلی نظر کا روپ چھل دیدہ و دل کے لیے ہیں رہنما یہ جھجک نیچی نظر ابرو پہ بل پیاس لگتی ہے تو کیوں بجھتی نہیں آپ آئے تو ہوئی الجھن یہ حل کیا برا تھا بند ہی رہتی نظر زندگی بے کیف سی ہے آج کل نامۂ اعمال ابھی بے رنگ ہے چار دن کی چاندنی جائے نہ ...

مزید پڑھیے

شام غم اور ستاروں کے سوا

شام غم اور ستاروں کے سوا جی سکے ہم نہ سہاروں کے سوا تلخیٔ آخر شب کون سہے ہجر میں درد کے ماروں کے سوا بے رخی بھی تو بجا ہے لیکن پھول کیا چیز ہیں خاروں کے سوا کس کو فرصت ہے کہ ہو سیر چمن ماہ رو شعلہ عذاروں کے سوا رنگ دنیا میں کئی اور بھی ہیں بہکی بہکی سی بہاروں کے سوا جانے جنت میں ...

مزید پڑھیے

بھگوان

بیٹھا تھا آکاش پر تو آنکھوں سے دور لیکن اپنا من تھا تیری شردھا سے بھرپور آنکھوں میں پرکاش تھا تیرا من میں تھا تھا یہ گیان کرم ککرم کو دیکھتا ہے میرا بھگوان تو مندر میں آن براجا پہن کے ہیرے موتی دوار دھنش کی اوٹ میں آ گئی تیری جوتی مہلوک داس پجاری پروہت پنڈت اور ودوان دینے لگے یہ ...

مزید پڑھیے

دنیا کیسے مجھ کو بھائے

تن سکھ کا اک ساگر چاہے جس میں خوب نہائے من کی ہے یہ چنچل آشا جو چاہے سو پائے دنیا چین نگر بن جائے تن بے چین ہے من بے قابو کون انہیں سمجھائے داس غلام کی آشا کیسی جنم جنم مر جائے من کی بات میں کہہ نہیں سکتا من مرضی سے رہ نہیں سکتا کچھ نہیں میرے بس میں بس گھل گئی جیون رس میں دنیا کیسے ...

مزید پڑھیے

شکایت بے وفائی کی نہ کر دنیائے فانی میں

شکایت بے وفائی کی نہ کر دنیائے فانی میں وفا کا نام باقی ہے فقط قصے کہانی میں جو مرنا تھا تو آخر کیوں نہ موت آئی جوانی میں دل زندہ کو بیٹھا رو رہا ہوں زندگانی میں کسی کے گوشہ ابرو سے کیا ارشاد ہوتا ہے کوئی کچھ عرض کرتا ہے زبان بے زبانی میں وفور شوق میرا مانع دیدار تھا ورنہ جھلک ...

مزید پڑھیے

غیروں کے ساتھ بیٹھے ہیں اس انجمن میں ہم

غیروں کے ساتھ بیٹھے ہیں اس انجمن میں ہم کانٹوں سے واسطہ ہے مگر ہیں چمن میں ہم سمجھو نہ داغ دامن دل میں یہ پھول ہیں اب ہیں قفس نصیب کبھی تھے چمن میں ہم رسوا نہ زخم تیر نظر ہو یہ خوف ہے ہاتھوں سے دل چھپائے ہوئے ہیں کفن میں ہم وہ حسن تھا کہ حسن نظر تھا خبر نہیں کچھ دیکھتے رہے ہیں ...

مزید پڑھیے

تڑپتا ہے تری فرقت میں کوئی نیم جاں ہو کر (ردیف .. ا)

تڑپتا ہے تری فرقت میں کوئی نیم جاں ہو کر ستم ہے پھیر لینا آنکھ تیرا مہرباں ہو کر زباں گو سامنے ان کے نہ تھی منہ میں مرے گویا خموشی کہہ رہی تھی حال دل میرا زباں ہو کر میں باور کر نہیں سکتا بت کمسن کے وعدوں کو یہ ہیں بچپن کی باتیں بھول جائے گا جواں ہو کر نہیں دو چار تنکوں سے فلک کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5768 سے 5858