شاعری

زندگی تجھ سے پیار کیا کرتے

زندگی تجھ سے پیار کیا کرتے خواب کا اعتبار کیا کرتے تجھ کو فرصت نہیں تھی ملنے کی ہم ترا انتظار کیا کرتے جو بھی اپنے تھے ساتھ چھوڑ گئے غیر کا اعتبار کیا کرتے کس کو چاہت تھی چارہ سازی کی زخم اپنے شمار کیا کرتے راز کوئی نہیں تھا سینے میں تجھ پہ ہم آشکار کیا کرتے

مزید پڑھیے

بدلتے موسموں میں آب و دانہ بھی نہیں ہوگا

بدلتے موسموں میں آب و دانہ بھی نہیں ہوگا کہ پیڑوں پر پرندوں کا ٹھکانہ بھی نہیں ہوگا بہا لے جائیں گی موجیں کتاب زندگانی کو سنانے کے لیے کوئی فسانہ بھی نہیں ہوگا نواح جاں میں اک دن تم اتر کر دیکھ بھی لینا تمہارے پاس یادوں کا خزانہ بھی نہیں ہوگا تصور کی حدوں سے دور جا کر کیسے ...

مزید پڑھیے

بزم میں وہ بیٹھتا ہے جب بھی آگے سامنے

بزم میں وہ بیٹھتا ہے جب بھی آگے سامنے میں لرز اٹھتا ہوں اس کی ہر ادا کے سامنے تجھ کو ہر دم مانگتا ہوں جاگتا ہوں رات بھر اور کیسے ہاتھ پھیلاؤں خدا کے سامنے منحرف ہوتا گیا ہر شخص اپنی راہ سے کوئی ٹھہرا ہی نہیں اس کی صدا کے سامنے مجھ پہ ہی الزام رکھ کر ہر طرف رسوا کیا کوئی چارہ ہی ...

مزید پڑھیے

جب ان کے کوچے میں جانا پڑتا ہے

جب ان کے کوچے میں جانا پڑتا ہے راہوں میں بے درد زمانہ پڑتا ہے باتوں کی قیمت جب گھٹنے لگتی ہے تب اشکوں کو کام میں لانا پڑتا ہے رہبر بس رستہ بتلاتے رہتے ہیں منزل تک راہی کو جانا پڑتا ہے پختہ کر لے اے زاہد اپنا ایماں مسجد سے پہلے مے خانہ پڑتا ہے ایسے بھی گل ہیں جن کو اس دنیا ...

مزید پڑھیے

درد کا سلسلہ نکل آیا

درد کا سلسلہ نکل آیا زخم سے رابطہ نکل آیا لوگ ہنسنا نہ بھول جائیں کہیں سوچ کر مسخرا نکل آیا اب نہیں مسئلہ مجھے کوئی یہ نیا مسئلہ نکل آیا شک یقیں میں بدل گیا جس دن جیب سے خط ترا نکل آیا روٹیاں سینکنے سیاست کی ہر کوئی رہنما نکل آیا لڑکیاں بے وفا نہیں ہوتیں یہ سنا قہقہہ نکل ...

مزید پڑھیے

تم سیاست میں ہو جو چاہے نیا کرتے رہو

تم سیاست میں ہو جو چاہے نیا کرتے رہو پر کتر کے ان پرندوں کو رہا کرتے رہو دکھ کے سب بادل چھٹیں گے دھوپ کھل کر آئے گی مسئلے پر تم بڑوں سے مشورہ کرتے رہو ہم نے یہ تعلیم پائی ہے نبئ پاک سے دشمنوں کے حق میں بھی رب سے دعا کرتے رہو تم بھی گن سکتے ہو تارے آسماں کے ہاں مگر شرط اتنی ہے ...

مزید پڑھیے

یہ دل ہے اب تمہارا بولتے ہیں

یہ دل ہے اب تمہارا بولتے ہیں ذرا سن لو دوبارہ بولتے ہیں وہاں پر لوگ پیاسے مر رہے ہیں چلو پانی کا نعرہ بولتے ہیں امانت تم کسی کی ہو مگر سب تمہیں اب تک ہمارا بولتے ہیں جو جگنو ہم نے ٹانکا تھا فلک پر اسی کو لوگ تارا بولتے ہیں کہ ہم تم ہیں محبت میں جہاں پر ہمیں سب ویر زارا بولتے ...

مزید پڑھیے

پہلے پیدل پیدل جایا کرتے تھے

پہلے پیدل پیدل جایا کرتے تھے پھر دونوں اک بس میں بیٹھا کرتے تھے وہ زلفوں کو پیچھے کرتی رہتی تھی پھر بھی اس کے گیسو بکھرا کرتے تھے وہ اول تھی پڑھنے لکھنے میں اور ہم پیچھے سب سے پیچھے بیٹھا کرتے تھے نام پکارا جاتا تھا جب اس کا تو یس سر یس سر ہم بھی بولا کرتے تھے دہرے کام کی عادت ...

مزید پڑھیے

لطیفہ

ماں سبق دے رہی تھی بچوں کو آج کا کام کل پہ مت ڈالو سن کے اک بچے نے یہ کہا اماں وہ جو رکھی ہے آپ نے برفی لائیے آج ہی اسے کھا لوں آج کا کام کل پہ کیوں ٹالوں

مزید پڑھیے

لطیفہ

کھیلتے کھیلتے کوئی بچہ ایک دن اک کنوئیں پہ جا پہنچا اپنی صورت اسے نظر آئی جھانک کر اس نے اس میں جب دیکھا کم سمجھ اور بےوقوف تھا وہ سمجھا کوئی کنوئیں میں ہے بیٹھا ڈر کے بھاگا وہ اپنے گھر کی طرف راہ میں مل گئے اسے ابا بولا کوئی کنوئیں میں بیٹھا ہے دیکھ کر جس کو ڈر کے میں بھاگا ابا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5752 سے 5858