شاعری

نشان اپنا مٹاتا جا رہا ہوں

نشان اپنا مٹاتا جا رہا ہوں ترے نزدیک آتا جا رہا ہوں میں اپنے ذوق الفت کے تصدق ستم پر مسکراتا جا رہا ہوں مسلسل بج رہا ہے بربط جور وفا کے گیت گاتا جا رہا ہوں فسانہ نزع میں ناکامیوں کا نگاہوں سے سناتا جا رہا ہوں محبت ہوتی جاتی ہے مکمل مصیبت میں سماتا جا رہا ہوں مذاق جستجو ہے ...

مزید پڑھیے

مشکل ہے ان کے رخ پہ ٹھہرنا نقاب کا

مشکل ہے ان کے رخ پہ ٹھہرنا نقاب کا بڑھنے لگا ہے جوش مرے اضطراب کا اے آسمان دیکھ ستم کوئی رہ نہ جائے میں یاد کیا کروں گا زمانہ شباب کا سر کا کے میرے منہ سے کفن کہہ رہے ہیں وہ شکوہ تھا کیا تمہیں کو ہمارے حجاب کا دنیا کا ذرہ ذرہ بدلتا ہے کروٹیں سب پر اثر ہے اک دل پر اضطراب کا ہاں ...

مزید پڑھیے

سو ظلمتیں ہے عشق پریشاں لئے ہوئے

سو ظلمتیں ہے عشق پریشاں لئے ہوئے آ جاؤ مشعل رخ تاباں لئے ہوئے ہر موج بے خراش تھی دریائے حسن کی آنا پڑا تلاطم ارماں لئے ہوئے دست جنوں کو چھیڑ نہ غیرت دہ بہار دامن سے جا ملے نہ گریباں لئے ہوئے بڑھ جائے اور عرصۂ محشر ضرورتاً آیا ہوں ساتھ کثرت عصیاں لئے ہوئے اک سرمدی حیات گلے مل ...

مزید پڑھیے

آپ سے شکوہ یہ کرنا ہے اگر راز رہے

آپ سے شکوہ یہ کرنا ہے اگر راز رہے عہد میں حسن کے ہم کشتۂ انداز رہے شرط پردہ ہے تو یہ آج سے انداز رہے میری آواز میں پنہاں تری آواز رہے بن گیا درد مقدر سے مرے یہ ورنہ ناز تو روح محبت ہے اگر ناز رہے میں جو اسرار محبت کہیں ظاہر کر دوں ہو کے ہر ساز سے پیدا تری آواز رہے آپ کے غم کو چھپا ...

مزید پڑھیے

لن ترانی کا بتانے کے لیے راز مجھے

لن ترانی کا بتانے کے لیے راز مجھے کون دیتا ہے سر طور یہ آواز مجھے عشق میں اور بھی دیوانہ بنا دیتی ہے میری آواز میں مل کر تری آواز مجھے روح آزاد تھی پابند قفس رہ نہ سکی اڑ گیا لے کے مرا جذبۂ پرواز مجھے میں تو جاتا ہی تھا تنگ آ کے عدم کی جانب تم نے کیوں روک لیا دے کر اک آواز ...

مزید پڑھیے

وہیں سے حد ملی ہے جا پہنچتا کوئے جاناں تک

وہیں سے حد ملی ہے جا پہنچتا کوئے جاناں تک رسائی سالکو جب عقل کر لے حد امکاں تک جنوں میں دست لاغر کا ہے قبضہ اس بیاباں تک جہاں سو منزلیں پڑتی ہیں دامن سے گریباں تک مرے دست جنوں کا زور اور پھر زور بھی کیسا کہ ہم راہ گریباں کھینچے لاتا ہے رگ جاں تک تمہیں تو کھیل تھا نظریں ملا کر ...

مزید پڑھیے

حیراں نہیں ہیں ہم کہ پریشاں نہیں ہیں ہم

حیراں نہیں ہیں ہم کہ پریشاں نہیں ہیں ہم اس پر بھی شاکیٔ غم دوراں نہیں ہیں ہم شکوہ زباں پہ لائیں وہ انساں نہیں ہیں ہم تیرے ستم بخیر پریشاں نہیں ہیں ہم خاک اپنی خاک کوچۂ جاناں میں جا ملی احسان مند گور غریباں نہیں ہیں ہم آنکھوں میں اشک داغ جگر میں لبوں پہ آہ سب کچھ ہے پاس بے سر و ...

مزید پڑھیے

قیدیوں میں نہ کرے ذکر گلستاں کوئی

قیدیوں میں نہ کرے ذکر گلستاں کوئی لے کے اڑ جائے نہ گلزار میں زنداں کوئی داغ ہائے دل ویراں پہ تعجب نہ کرو بس بھی جاتا ہے کسی وقت بیاباں کوئی شاید اس بات پہ لب میرے سیے جاتے ہیں آہ کے ساتھ نکل جائے نہ ارماں کوئی شدت درد نے فطرت ہی بدل دی دل کی نالہ ہو جاتا ہے بنتا ہے جو ارماں ...

مزید پڑھیے

فریاد ہے کہ میری نظر سے نہاں رہے

فریاد ہے کہ میری نظر سے نہاں رہے اور جلوہ ریز آپ مکاں در مکاں رہے گھر بے نشاں قفس سے رہائی چمن میں برق اس بے بسی کے دور میں کوئی کہاں رہے روداد اپنے عشق کی گونگے کا خواب تھا تا زیست اپنے راز کے خود راز داں رہے تم کیوں اداس ہو گئے میدان حشر میں کہہ دو تو دل کی دل میں مری داستاں ...

مزید پڑھیے

خدا

کیا خدا تجھ کو بھول جاؤں میں کس لیے تیرے گن گاؤں میں مجھ کو انساں بنا دیا تو نے سیدھا رستہ بتا دیا تو نے پھر سمجھ دی کہ نیک کام کروں کتنا اونچا اٹھا دیا تو نے کیا یہ احسان بھول جاؤں میں کس لیے تیرے گن نہ گاؤں میں چاند سورج جو جگمگاتے ہیں گرمی اور روشنی بہاتے ہیں زندگی کا یہی سہارا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5718 سے 5858