شاعری

کسے خبر تھی کہ خود کو وہ یوں چھپائے گا

کسے خبر تھی کہ خود کو وہ یوں چھپائے گا اور اپنے نقش کو لہروں پہ چھوڑ جائے گا خموش رہنے کی عادت بھی مار دیتی ہے تمہیں یہ زہر تو اندر سے چاٹ جائے گا کچھ اور دیر ٹھہر جاؤ خواب زاروں میں وہ عکس ہی سہی لیکن نظر تو آئے گا بچا سکو تو بچا لو یہ آسماں یہ زمیں ذرا سی دیر میں یہ اشک پھیل ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر میری انا کس درجہ حیرانی میں ہے

دیکھ کر میری انا کس درجہ حیرانی میں ہے اس نے سمجھا تھا کہ سب کچھ باب امکانی میں ہے مجھ کو غم دے دے کے خوش تھا وہ مگر یہ کیا ہوا وقت کے ہاتھوں وہی غم کی فراوانی میں ہے کس کو کس کو خوش رکھے وہ کس سے جھگڑا مول لے فیصلہ ہے اس کے ہاتھوں میں تو حیرانی میں ہے ہر گھڑی اب حسرتوں کی لاش دیتی ...

مزید پڑھیے

تازہ دم جوانی رکھ

تازہ دم جوانی رکھ خون میں کچھ طغیانی رکھ وقت کے دامن میں کوئی اپنی ایک کہانی رکھ دوست بنانے کی خاطر صورت سب پہچانی رکھ تیرے دل تک آؤں میں اتنی تو آسانی رکھ میرے گھر کے آنگن میں کوئی شام سہانی رکھ پل دو پل کی خاطر ہی سانسوں کی ارزانی رکھ فن کا اپنے تو بھی تپشؔ نقش کوئی لا ...

مزید پڑھیے

گرچہ نیزوں پہ سر ہے

گرچہ نیزوں پہ سر ہے موت تو وقت پر ہے کون پتھر اٹھائے یہ شجر بے ثمر ہے گھونسلہ زندگی کا سانس کی شاخ پر ہے کوئی دشمن نہیں ہے مجھ کو اپنا ہی ڈر ہے شک بھی کیجے تو کس پر وہ بڑا معتبر ہے زد میں آندھی کے اکثر ایک میرا ہی گھر ہے اپنی پہچان رکھنا بھیڑ ہر موڑ پر ہے میرے مولا تپشؔ کو عشق ...

مزید پڑھیے

اگر وہ بے ادب ہے بے ادب لکھ

اگر وہ بے ادب ہے بے ادب لکھ کبھی جو لکھ نہیں پایا وہ اب لکھ تمازت حرص کی حد سے بڑھی ہے سمندر خود ہوا ہے تشنہ لب لکھ انا میری زباں کھلنے نہ دے گی مجھے تو جتنا چاہے بے طلب لکھ کمینہ ساری دنیا تیرے آگے مگر اپنا بھی تو نام و نسب لکھ مری قندیل جاں جلتی ہے شب بھر ذرا اپنی بھی تو روداد ...

مزید پڑھیے

خوف و وحشت بر سر بازار رکھ جاتا ہے کون

خوف و وحشت بر سر بازار رکھ جاتا ہے کون یوں رگ احساس پر تلوار رکھ جاتا ہے کون کیوں وہ ملنے سے گریزاں اس قدر ہونے لگے میرے ان کے درمیاں دیوار رکھ جاتا ہے کون منبر و محراب سے آتش فشاں ہوتے تو ہیں وقت کی دہلیز پر دستار رکھ جاتا ہے کون بس خدا غافل نہیں ہے ورنہ اس منجدھار میں میری ...

مزید پڑھیے

جفا کے ذکر پہ وہ بد حواس کیسا ہے

جفا کے ذکر پہ وہ بد حواس کیسا ہے ذرا سی بات تھی لیکن اداس کیسا ہے نہ جانے کون فضاؤں میں زہر گھول گیا ہرا بھرا سا شجر بے لباس کیسا ہے مری طرح سے نہ حق بات تم کہو دیکھو بلا کا سایہ مرے آس پاس کیسا ہے یہ فیصلہ ہے کہ ہم اپنے حق سے باز آئیں تو پھر یہ لہجہ یہ ترا، التماس کیسا ہے وہی جو ...

مزید پڑھیے

جسم کے مرتبان میں کیا ہے

جسم کے مرتبان میں کیا ہے روح ہے بس مکان میں کیا ہے روح کیا ہے خدا کو ہے معلوم اپنے وہم و گمان میں کیا ہے اک جنوں ہے جو ساتھ چلتا ہے کشتی و بادبان میں کیا ہے اس کو میری انا سے جھگڑا ہے ورنہ میری زبان میں کیا ہے بے گناہوں کے خوں کا پیاسا تیر اور اس کی کمان میں کیا ہے ایک وعدہ جو سب ...

مزید پڑھیے

آنکھ تھی سوجی ہوئی اور رات بھر سویا نہ تھا

آنکھ تھی سوجی ہوئی اور رات بھر سویا نہ تھا اس طرح وہ ٹوٹ کر شاید کبھی رویا نہ تھا ان کے شوق دید میں تھا اس قدر کھویا ہوا میں بھری محفل میں تھا ایسا کہ میں گویا نہ تھا امتحاں ذوق سفر کا تھا تو سورج سر پہ تھا دھوپ تھی دیوار تھی لیکن کہیں سایہ نہ تھا وہ بڑا تھا پھر بھی وہ اس قدر بے ...

مزید پڑھیے

ابھی تک حوصلہ ٹھہرا ہوا ہے

ابھی تک حوصلہ ٹھہرا ہوا ہے نفس کا سلسلہ ٹھہرا ہوا ہے رگوں پر آج بھی ہے لرزہ طاری نگہ میں حادثہ ٹھہرا ہوا ہے فقط قابیل نے بنیاد ڈالی ابھی تک سلسلہ ٹھہرا ہوا ہے بس اک تار نفس کا ٹوٹنا ہے یہی اک حادثہ ٹھہرا ہوا ہے نظر کی چوک تھی بس ایک لمحہ صدی کا قافلہ ٹھہرا ہوا ہے جہاں تک پاؤں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5691 سے 5858