شاعری

کیا خبر کب سے پیاسا تھا صحرا

کیا خبر کب سے پیاسا تھا صحرا سارے دریا کو پی گیا صحرا لوگ پگڈنڈیوں میں کھوئے رہے مجھ کو رستہ دکھا گیا صحرا دھوپ نے کیا کیا سلوک اس سے جیسے دھرتی پہ بوجھ تھا صحرا بڑھتی آتی تھی موج دریا کی میں نے گھر میں بلا لیا صحرا جانے کس شخص کا مقدر ہے دھوپ میں تپتا بے صدا صحرا کھو کے اپنا ...

مزید پڑھیے

جب بھی کمرے میں کچھ ہوا آئی

جب بھی کمرے میں کچھ ہوا آئی میں نے جانا وہی صدا آئی ذہن جس کو اٹھائے پھرتا تھا آنکھ اس کو کہیں گنوا آئی شاخ ٹوٹی تو اک صدا نکلی سارے جنگل کو جو جگا آئی جب درختوں سے جھڑ گئے پتے بوجھ لادے ہوئے ہوا آئی میرے گھر میں تڑپ رہی ہے رات خواب جانے کہاں لٹا آئی

مزید پڑھیے

رات

فسردہ رات ستاروں کے قافلوں کو لئے خموش راہوں کی خوابیدہ مستیوں کو سلام نہ جانے کون سی منزل کو ہے رواں کب سے تمام دہر پہ سایہ فگن یہ رات جسے کیا ہے میں نے مقدر خیال غمگیں کا اک ایک اشک سے رہ رہ کے جس کو دھویا ہے اداس اداس سریلے سریلے نغموں سے اک ایک نقش سنوارا ہے جس کے چہرے کا کبھی ...

مزید پڑھیے

اجنبی

وقت کی جادوگری اک سال میں ہر گلی ہر موڑ میرے شہر کا پوچھتا ہے مجھ سے صاحب کون ہو جس کو اپنا گھر کہا کرتا تھا میں جس کی ویرانی سے دل مانوس تھا آج اس کی ایک اک دیوار سے یہ صدا آتی ہے صاحب کون ہو کیا یہی گوشہ ہے وہ جس میں مری سر بہ زانو ان گنت راتیں کٹیں جس سے اپنا غم کہا کرتا تھا ...

مزید پڑھیے

شکست

مرے کلیجہ کی رگ رگ سے ہوک اٹھتی ہے مجھے مری ہر شکستوں کی داستاں نہ سنا نہ پوچھ مجھ سے مری خامشی کا راز نہ پوچھ مرے دماغ کا ہر گوشہ دکھ رہا ہے ابھی فضائے ظلمت ماضی میں اے مرے ہمدم ڈھکے ڈھکے سے مری کامرانیوں کے نشاں اداس اداس نگاہوں کی شمع سے نہ ٹٹول ہر اک کے سینہ پہ بار شکست ہے اس ...

مزید پڑھیے

وسوسے دل میں نہ رکھ خوف رسن لے کے نہ چل

وسوسے دل میں نہ رکھ خوف رسن لے کے نہ چل عزم منزل ہے تو ہمراہ تھکن لے کے نہ چل راہ منزل میں بہر حال تبسم فرما ہر قدم دکھ سہی ماتھے پہ شکن لے کے نہ چل نور ہی نور سے وابستہ اگر رہنا ہے سر پہ سورج کو اٹھا صرف کرن لے کے نہ چل پہلے فولاد بنا جسم کو اپنے اے دوست بارش سنگ میں شیشہ سا بدن لے ...

مزید پڑھیے

نمایاں جب وہ اپنے ذہن کی تصویر کرتا ہے

نمایاں جب وہ اپنے ذہن کی تصویر کرتا ہے ہر اک اہل محبت کو بہت دلگیر کرتا ہے وہ کیوں مسرور ہوتا ہے ہمارا خون بہنے سے سر حق کس لیے ظالم تہ شمشیر کرتا ہے وفا کا نام لیتا ہے وفا نا آشنا ہو کر وہ خود کو انتہائی پارسا تعبیر کرتا ہے جسے محروم ہونا ہے وہی ہے مطمئن یارو جو ہے نصرت کا طالب ...

مزید پڑھیے

باغباں جشن بہاراں نہیں ہونے دیتے

باغباں جشن بہاراں نہیں ہونے دیتے دیپ الفت کے فروزاں نہیں ہونے دیتے زہر الفت کا پلاتے ہیں بڑے فخر کے ساتھ آپ انسان کو انساں نہیں ہونے دیتے خود نمائی میں کچھ اس طرح گرفتار ہیں ہم اور لوگوں کو نمایاں نہیں ہونے دیتے عقل کو شوخئ باطل میں پھنسانے والے قلب کو صاحب ایماں نہیں ہونے ...

مزید پڑھیے

نئی ہوا میں کوئی رنگ کائنات میں گم

نئی ہوا میں کوئی رنگ کائنات میں گم ہوا ہے سارا زمانہ تصنعات میں گم گلے کا ہار کہیں بن نہ جائے محرومی نہ ہونا بھول کے حسن تکلفات میں گم کسی بھی شخص پہ اس کو ترس نہیں آتا امیر شہر ہوا ہے یہ کن صفات میں گم ہر ایک گل کو مری دسترس سے دور کیا مری نظر ہے عدو کی نوازشات میں گم بشر بشر نے ...

مزید پڑھیے

چاند

چپکے چپکے رات کو تشریف جب لاتا ہے چاند ہر طرف دھرتی پہ کیسا نور برساتا ہے چاند پہلے دن کے چاند کو سب لوگ کہتے ہیں ہلال چودھویں تاریخ ہو تو بدر کہلاتا ہے چاند پر سکوں ماحول تارے کہکشاں ٹھنڈی ہوا رات کی محفل میں اکثر رقص فرماتا ہے چاند جب گھٹا گھنگھور آتی ہے کبھی برسات میں اوڑھ کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5688 سے 5858