کیا خبر کب سے پیاسا تھا صحرا
کیا خبر کب سے پیاسا تھا صحرا سارے دریا کو پی گیا صحرا لوگ پگڈنڈیوں میں کھوئے رہے مجھ کو رستہ دکھا گیا صحرا دھوپ نے کیا کیا سلوک اس سے جیسے دھرتی پہ بوجھ تھا صحرا بڑھتی آتی تھی موج دریا کی میں نے گھر میں بلا لیا صحرا جانے کس شخص کا مقدر ہے دھوپ میں تپتا بے صدا صحرا کھو کے اپنا ...