ضبط کر آہ بار بار نہ کر
ضبط کر آہ بار بار نہ کر غم الفت کو شرمسار نہ کر جس کو خود اپنا اعتبار نہ ہو ایسے انساں کا اعتبار نہ کر اس کے فضل و کرم پہ رکھ نظریں اپنے سجدوں کا اعتبار نہ کر باغ اجڑنے کا غم ہی کیا کم ہے جانے بھی دے غم بہار نہ کر لوگ تجھ کو حقیر سمجھیں گے حد سے زائد بھی انکسار نہ کر وقت سے فائدہ ...