گئے منظروں سے یہ کیا اڑا ہے نگاہ میں
گئے منظروں سے یہ کیا اڑا ہے نگاہ میں کوئی عکس ہے کہ غبار سا ہے نگاہ میں ہمہ وقت اپنی شبیہ کے ہوں میں روبرو کوئی اشک ہے کہ یہ آئینہ ہے نگاہ میں کوئی شہر خواب گزر رہا ہے خیال سے کوئی دشت شام سلگ رہا ہے نگاہ میں کف درد سے غم کائنات کی گرد سے وہی مٹ رہا ہے جو نقش سا ہے نگاہ میں کوئی ...