موسم گل میں جو گھر گھر کے گھٹائیں آئیں
موسم گل میں جو گھر گھر کے گھٹائیں آئیں ہوش اڑ جاتے ہیں جن سے وہ ہوائیں آئیں چل بسے سوئے عدم تم نے بلایا جن کو یاد آئی تو غریبوں کی قضائیں آئیں روح تازی ہوئی تربت میں وہ ٹھنڈی ٹھنڈی باغ فردوس کی ہر سو سے ہوائیں آئیں میں وہ دیوانہ تھا جس کے لیے بزم غم میں جا بجا بچھنے کو پریوں کی ...