کر بھی لوں اگر خواب کی تعبیر کوئی اور
کر بھی لوں اگر خواب کی تعبیر کوئی اور سینے میں اتر جائے گی شمشیر کوئی اور اب اشک ترے روک نہیں پائیں گے مجھ کو اب ڈال مرے پاؤں میں زنجیر کوئی اور میں شب سے نہیں دن کی ہلاکت سے ڈرا ہوں اب میرے لیے بھیجنا تنویر کوئی اور اب تیری محبت سے بھی کچھ کام نہ ہوگا اب ڈھونڈ مرے واسطے اکسیر ...