شاعری

نقصان ہو رہا ہے بہت کاروبار میں

نقصان ہو رہا ہے بہت کاروبار میں ابا پڑے ہیں جب سے پڑوسن کے پیار میں سو کوششوں سے آئے تھے چندیا پہ چار بال دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں نا اہل ہی ملی مجھے ہر ایک اہلیہ میں نے کیے نکاح سب یارو ادھار میں بنتی نہ سرمہ پسلیاں اور پھوٹتا نہ سر ہوتی اگر زبان مرے اختیار ...

مزید پڑھیے

پین‌ ڈرائیو

غصے میں بیوی یہ بولی شوہر سے تم نے تو بس ظلم مجھی پر ڈھائے ہیں میں ہی تم کو پھوٹی آنکھ نہیں بھاتی تم نے سب سے پیار کے پیچ لڑائے ہیں شوہر بولا بات اگر یہ سچی ہے پھر یہ بچے کس کے گھر سے آئے ہیں بنٹی ببلی سونو مونو کیا تم نے انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کرائے ہیں اتنا بھی معلوم نہیں ہے کیا ...

مزید پڑھیے

پیروڈی

یہ کھٹمل یہ مکھی یہ مچھر کی دنیا یہ لنگور بھالو یہ بندر کی دنیا یہ کتوں گدھوں اور خچر کی دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہ عورت یہ مردوں یہ چھکوں کی دنیا نہتوں کی ہتھیار‌ بندوں کی دنیا یہ ڈاکو پولس اور غنڈوں کی دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہ چوروں یہ لچوں ...

مزید پڑھیے

قیمتی کتاب

ایک دن بیوی نے فرمایا تمہاری ہر کتاب فالتو سامان ہے کوڑا ہے ردی ہے جناب آج کل مہنگائی سے میں کس قدر بد حال ہوں تم اجازت دو اگر ردی میں ان کو بیچ دوں دفن ان میں علم و فن کے ہیں ہزاروں ماہتاب میں نے بیوی سے کہا نایاب ہے ہر اک کتاب دیکھ یہ دیوان غالب آپ ہے اپنی مثال اس کا اک اک شعر ...

مزید پڑھیے

مرا پڑوسی کوئی مال دار تھوڑی ہے

مرا پڑوسی کوئی مال دار تھوڑی ہے یہ کار بینک کی ہے اس کی کار تھوڑی ہے ہر ایک ملک میں جائیں گے کھائیں گے جوتے کہ بزدلوں میں ہمارا شمار تھوڑی ہے خدا کا شکر ہے چکر کئی سے ہیں اپنے بس ایک بیوی پہ دار و مدار تھوڑی ہے گلے میں ڈال کے باہیں سڑک پہ گھومیں گے ہے نقد عشق ہمارا ادھار تھوڑی ...

مزید پڑھیے

میں ترا شہر

مجھ سے پھر میری کار تو مانگے ایک یا دو ہزار تو مانگے اس سے پہلے ادھار تو مانگے میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا گیت فلموں کے گنگنانے میں روڈ پر لڑکیاں پٹانے میں اس سے پہلے پٹوں میں تھانے میں میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا بن نہ جائے خبر بڑی کوئی اس سے پہلے کہ پھلجھڑی کوئی پھونک دے دل کی ...

مزید پڑھیے

مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے

مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئے عشق میں وقت کا احساس ...

مزید پڑھیے

کسی کی یاد رلائے تو کیا کیا جائے

کسی کی یاد رلائے تو کیا کیا جائے شب فراق ستائے تو کیا کیا جائے جو رفتہ رفتہ غم انتظار کی دیمک مرے وجود کو کھائے تو کیا کیا جائے شب فراق ہو یا ہو وصال کا موسم یہ دل سکون نہ پائے تو کیا کیا جائے دکھا کے چاند سا چہرہ وہ حسن کا پیکر اسیر اپنا بنائے تو کیا کیا جائے شراب‌ نوشی سے میں ...

مزید پڑھیے

سلگتی ریت پہ تحریر جو کہانی ہے

سلگتی ریت پہ تحریر جو کہانی ہے مرے جنوں کی اک انمول وہ نشانی ہے میں اپنے آپ کو تنہا سمجھ رہا تھا مگر سنا ہے تم نے بھی صحرا کی خاک چھانی ہے غموں کی دھوپ میں رہنا ہے سائباں کی طرح خیال گیسوئے جاناں کی مہربانی ہے کبھی ادھر سے جو گزرے گا کارواں اپنا تو ہم بھی دیکھیں گے دریا میں کتنا ...

مزید پڑھیے

یادوں کے نشیمن کو جلایا تو نہیں ہے

یادوں کے نشیمن کو جلایا تو نہیں ہے ہم نے تجھے اس دل سے بھلایا تو نہیں ہے کونین کی وسعت بھی سمٹ جاتی ہے جس میں اے دل کہیں تجھ میں وہ سمایا تو نہیں ہے ہر شے سے وہ ظاہر ہے یہ احسان ہے اس کا خود کو مری نظروں سے چھپایا تو نہیں ہے زلفوں کی سیاہی میں عجب حسن نہاں ہے یہ رات اسی حسن کا سایا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5569 سے 5858