ایک یاد کا روزن
میری یادوں میں سے ایک یاد مجھے تا دم مرگ نہیں بھولے گی میری اس یاد کا روزن دریچہ ہے جس میں سے مجھے کتنے گزرے ہوئے پل صاف نظر آتے ہیں کچی مٹی کو جو تختی پہ چلاؤں تو یہ دھرتی جیسے اپنی خوشبو میں مجھے نہلائے روشنائی میں قلم کو جو ڈوبو دوں تو مجھے روز ازل یاد آئے لفظ لکھوں سر ...