شاعری

بازار کی فصیل بھی رخسار پر ملے

بازار کی فصیل بھی رخسار پر ملے دود چراغ جو کسی شوراب سے جلے ماتھے کی بندی ہاتھ کی راکھی دعا کے بول بیمار کے قریب مسیحائی میں ڈھلے کاغذ کی ناؤ ٹوٹا دیا تاش کا محل اپنے ہیں ہم جلیس یہی چند منچلے اتنا تو اہتمام رہے آرتی کے ساتھ گیہوں کی فصل کے لیے شوراب بھی ڈھلے احمدؔ اب آفتاب کے ...

مزید پڑھیے

ایک شاعر کا خواب

کہیں اک شب جو اپنے بستر راحت پہ جا لیٹا رہا ہے چین تھوڑی دیر آنکھیں لگ گئیں آخر بلا کا خواب راحت میں مجھے منظر نظر آیا قلم میں یہ کہاں طاقت کہ اس کو کر سکے ظاہر نظر آیا مجھے میدان جس میں ہو کا عالم تھا نہ اپنا ہم سفر کوئی نہ اپنا کوئی ہم دم تھا درختوں کے نشاں کچھ تھے مگر سیل حوادث ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5512 سے 5858