ثابت ہے تن میں بادشاہی دل کی
ثابت ہے تن میں بادشاہی دل کی پر کی تری نخوت نے تباہی دل کی زاہد یہ غرور داغ پیشانی پر منہ پر نکل آئی ہے سیاہی دل کی
ثابت ہے تن میں بادشاہی دل کی پر کی تری نخوت نے تباہی دل کی زاہد یہ غرور داغ پیشانی پر منہ پر نکل آئی ہے سیاہی دل کی
یا رب مرے دل میں ہے اجالا تیرا آئینے کی ہے بغل میں جلوا تیرا مائلؔ کیوں آپ منہ نہ دیکھے اپنا یاں بھی تو چمک رہا ہے چہرا تیرا
ہے عرش بھی یک فرش قدم کا تیرے تقدیر نوشتہ ہے ہے قلم کا تیرے رحمت کے بقیہ سے بنا ہے دوزخ اللہ رے شعبدہ کرم کا تیرے
اللہ متاع زندگانی مل جائے پھر عہد شباب کی نشانی مل جائے تھی آس بڑھاپے میں تری ملنے کی جب تو نہ ملا تو پھر جوانی مل جائے
اقرار نگر کو گدائی کا ہے دعویٰ افلاس و بے نوائی کا ہے ہر بات میں ہے فروتنی کا اظہار یہ بھی انداز خود ستائی کا ہے
کہتے ہیں کہ رونق جمالی ہوں میں شہرہ ہے کہ جلوۂ جلالی ہوں میں جو نام پسند آئے پکارو مجھ کو کچھ بھی نہیں تصویر خیالی ہوں میں
افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہے گھٹتی ہے عمر کیا ستم ہوتا ہے ہے مثل چراغ زندگانی مائلؔ بتی جلتی ہے تیل کم ہوتا ہے
یہ مجھ سے نہ پوچھ تو نے کیا کیا دیکھا یا رب جو کچھ نظر نے دیکھا دیکھا خود ہی کو ٹٹولنے کی نوبت آئی اچھا میں نے ترا تماشا دیکھا
اشک آئے غم شہ سے جو چشم تر میں دل جلنے لگا تڑپ تڑپ کر بر میں مائلؔ یہ ماجرا نہ دیکھا نہ سنا پانی سے لگی آگ خدا کے گھر میں
ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہے میرے لیے دنیا میں عذاب آیا ہے طفلی میں پڑی تھی دونوں ہاتھوں پر مار اب دل کی ہے باری کہ شباب آیا ہے