ہیں سو طرح کے رنگ ہر اک نقش پا میں دیکھ
ہیں سو طرح کے رنگ ہر اک نقش پا میں دیکھ انساں کا حسن آئنۂ ارتقا میں دیکھ یوں ہی نہیں یہ برتریٔ نسل آدمی گزرے ہیں کیسے حادثے سعئ بقا میں دیکھ صرف نظر ہیں وقت کی پنہائیاں تمام دنیائے نارسا مری فکر رسا میں دیکھ یہ روشنی تو لو ہے اسی اک چراغ کی تزئین دہر ذہن کی نشو و نما میں ...