ہوا تھی ٹھنڈی ٹھنڈی چاندنی تھی اور دریا تھا
ہوا تھی ٹھنڈی ٹھنڈی چاندنی تھی اور دریا تھا کہیں نزدیک ہی جنگل میں کوئی گیت گاتا تھا فضا میں رس بھرے نغموں کی ہلکی ہلکی بارش تھی مرے دامن میں چھم چھم آنسوؤں کا مینہ برستا تھا
ہوا تھی ٹھنڈی ٹھنڈی چاندنی تھی اور دریا تھا کہیں نزدیک ہی جنگل میں کوئی گیت گاتا تھا فضا میں رس بھرے نغموں کی ہلکی ہلکی بارش تھی مرے دامن میں چھم چھم آنسوؤں کا مینہ برستا تھا
ہرگز نہیں جینے سے دل زار خفا سینے میں مچلتی ہے تمنائے وفا چلتے رہے لیکن نہ ہوئے خاک اب تک اک ڈھونگ ہے اے چرخ تری سعیٔ جفا
جو ہو نہ سکا ہم سے وہ کر جاؤ تم اس پار سے اس پار اتر جاؤ تم ہم دیتے رہے چرخ فلک کو الزام ممکن ہو تو اس سے بھی گزر جاؤ تم
پھرتی ہوں لیے سوز حیات آنکھوں میں ہے جلوہ نما غم کی برات آنکھوں میں عمر اپنی کچھ اس طرح بتائی میں نے جس طرح کوئی کاٹ دے رات آنکھوں میں
سانسوں میں لیے کرب و بلا جیتا ہوں سلتے نہیں جو زخم انہیں سیتا ہوں جی بھر کے زمانے نے پیا خوں میرا باقی جو بچا اس کو میں خود پیتا ہوں
جینے کی بظاہر نہیں کچھ آس ہمیں لے ڈوبے گی اک روز یہی پیاس ہمیں لو ختم ہوا آج فریب امید اب یاس کی جانب سے بھی ہے یاس ہمیں
آسودگیٔ ذات نہیں ہو سکتی سیرابئ جذبات نہیں ہو سکتی جو اتنی تنک مایہ ہو دنیا اس میں میری گزر اوقات نہیں ہو سکتی
اک تیر کلیجے میں پرویا ہم نے اک زخم دل زار میں بویا ہم نے لوٹا کیے پھر عمر بھر آہوں کے مزے یوں جنت و دوزخ کو سمویا ہم نے
آتا نہیں سانسوں میں مزہ پنے کا کھلتا ہی نہیں زخم مرے سینے کا ہر روز اگر ایک رباعی نہ کہوں ہوتا نہیں حق جیسے ادا جینے کا
آفات و حوادث سے بھری ہے دنیا دکھڑوں سے غرض پٹی پڑی ہے دنیا زنہار تعلی نہیں میرا یہ قول میرے ہی لیے خلق ہوئی ہے دنیا